اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > ہم پر ہمارے نبی ﷺ کی سنت کو خلط ملط نہ کرو، ام ولد کی عدت جب اس کے مالک کی وفات ہو جائےتو …
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن عمرو بن العاص قال: "لا تُلَبِّسُوا علينا سُنَّةَ نبيِّنا عِدَّةُ أُمِّ الْوَلَدِ، إذا تُوُفِّيَ عنها سَيِّدُهَا أربعة أشهر وعشر".
اس اثر میں جلیل القدر صحابی عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں پر نکیر فرمائی ہے جو بغیر دلیل وحجت کے اُس ام ولد کی عدت کے بارے میں گفتگو کرتے ہیں جس کے مالک کی وفات ہو گئی ہو، آپ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اس بارے میں سنت یہی ہے کہ وہ آزاد بیوی کی عدت کی طرح اسی کے برابر چار ماہ دس دن ٹھہرے گی، یہ اثر اگرچہ اپنے مفہوم میں صراحت سے دلالت کرتی ہے مگر اکثر علماء نے دوسرے دلائل کی بنا پر اس بات کو ترجیح دی ہے کہ متوفیٰ عنہا ام ولد کی عدت بقیہ لونڈیوں کی طرح ایک حیض ہے اور یہی جمہور کا مذہب ہے۔
موضوعات : عدت سے متعلق احکام