اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > اپنے اسی گھر میں رہو یہاں تک کہ قرآن کی بتائی ہوئی مدت (عدت) پوری ہو جائے، کہتی ہیں:پھر می…
صحیحفہرست مضامین :
27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن الفُرَيْعَةَ بنت مالك بن سنان، وهي أخت أبي سعيد الخدري رضي الله عنهما أنها جاءت إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم تسأله أن ترجع إلى أهلها في بني خُدْرَةَ، فإن زوجها خرج في طلب أَعْبُدٍ له أَبَقُوا، حتى إذا كانوا بِطَرَفِ الْقَدُومِ لحقهم فقتلوه، فسألت رسول الله صلى الله عليه وسلم : أن أرجع إلى أهلي، فإني لم يتركني في مسكن يملكه، ولا نفقة؟ قالت: فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «نعم»، قالت: فخرجت حتى إذا كنت في الحُجْرَةِ، أو في المسجد، دعاني، أو أمر بي، فَدُعِيتُ له، فقال: «كيف قلت؟»، فرددت عليه القصة التي ذكرت من شأن زوجي، قالت: فقال: «امْكُثِي في بيتك حتى يبلغ الكتاب أَجَلَهُ»، قالت: فاعتددت فيه أربعة أشهرٍ وعشرًا، قالت: فلما كان عثمان بن عفان أرسل إِلَيَّ فسألني عن ذلك، فأخبرته فَاتَّبَعَهُ، وقضى به.
اس حدیث میں اس بات کا بیان ہے کہ اس صحابیہ کے شوہر انتقال کر گئے اور انہوں نے اپنے شوہر کے علاوہ کسی اور گھر میں عدت پوری کرنی چاہی تو نبی ﷺ نے بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر فرض کیا ہے کہ وہ اسی گھر میں عدت گزاریں جہاں اپنے شوہر کے ساتھ رہ رہی تھیں۔ یہ حدیث متوفیٰ عنہا کے متعلق اصل ہے کہ اس پر عدت گزارنا اور متعینہ مدت تک اس گھر میں رہنا واجب ہے جس گھر میں رہتے ہوئے اس کے شوہر کی وفات ہوئی اور اس کے لیے عدت اور اس کے محدّد وقت کو پورا کیے بغیر کسی اور مکان میں منتقل ہونا جائز نہیں ہے۔ اور یہ مدت حاملہ کے لیے وضعِ حمل اور غیر حاملہ کے لیے چار ماہ دس دن پورا کرنا ہے۔
موضوعات : عدت