اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > عائشہ رضی اللہ عنہہا نے اپنی(بھتیجی) عبدالرحمٰن کی بیٹی حفصہ کو جب کہ (وہ تین طہر گزار چکی…
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 2 منٹ مطالعہعن عروة بن الزبير عن عائشة زوج النبي صلى الله عليه وسلم أنها انْتَقَلَتْ حفصةَ بنتَ عبد الرحمن بن أبي بكر الصديق، حين دَخَلَتْ في الدَّمِ من الحيضة الثالثة. قال ابن شهاب: فذُكر ذلك لِعَمْرَةَ بنت عبد الرحمن. فقالت: صدَق عروة. وقد جادلها في ذلك ناس، وقالوا: إن الله -تبارك وتعالى- يقول في كتابه: {ثَلاَثَةَ قُرُوءٍ} [البقرة 2: 228]. فقالت عائشة: صدقتم، وتدرون ما الأَقْرَاءُ؟. إنما الأَقْرَاءُ الأَطْهَارُ.
اس اثر میں عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے سگے بھائی عبد الرحمان کی بیٹی حفصہ کو جنہیں ان کے شوہر منذر بن عوام نے طلاق دے دیا تھا، تیسرا حیض آنے کے بعد عدت کے گھر سے منتقل کردیا اور ایسا عدت پورا ہونے کی وجہ سے کیا، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ﴾ ”طلاق والی عورتیں اپنےآپ کو تین قروء تک روکے رکھیں“ میں وارد لفظ ’قرْء‘ کے معنیٰ کے متعلق بعض صحابہ اور عائشہ رضی اللہ عنہا کے درمیان نزاع تھا۔ صحابہ نے کہا قرء سے مراد حیض ہے۔ تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان لوگوں کا جواب دیا کہ بیشک آپ لوگ قراءتِ قرآن میں تو درست اور صحیح ہیں مگر اس کی تفسیر میں خطا کر رہے ہیں کیوں کہ ’قرْء‘ کا مفہوم وہ طہر (پاکی) ہے جو دوحیض کے بعد حاصل ہوتا ہے۔ لفظ قرء اضداد میں سے ہے یہ طہارت پر بھی دلالت کرتا ہے اس معنی کی طرف امام مالک اور امام شافعی رحمہما اللہ گئے ہیں، اور یہ لفظ حیض پر بھی دلالت کرتا ہے اس معنی کی طرف امام ابو حنیفہ اور امام احمد رحمہما اللہ گئے ہیں۔
موضوعات : عدت