(زمانہ جاہلیت میں) جب کسی عورت کا شوہر مر جاتا تو وہ ایک تنگ وتاریک کوٹھڑی میں چلی جاتی،او…

اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > (زمانہ جاہلیت میں) جب کسی عورت کا شوہر مر جاتا تو وہ ایک تنگ وتاریک کوٹھڑی میں چلی جاتی،او…

حدیث کے راوی: متفق علیہ

صحیح

27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا

📖 2 منٹ مطالعہ

حدیث کا متن: (زمانہ جاہلیت میں) جب کسی عورت کا شوہر مر جاتا تو وہ ای…

عن أم سلمة رضي الله عنها مرفوعاً: «جاءت امرأة إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت: يا رسول الله، إن ابنتي توفي عنها زوجها، وقد اشتكت عينها أفَنَكْحُلُها؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : لا -مرتين، أو ثلاثا-، ثم قال: إنما هي أربعة أشهر وعشر، وقد كانت إحداكن في الجاهلية ترمي بالبَعْرَةِ على رأس الحول».
فقالت زينب: كانت المرأة إذا توفي عنها زوجها: دخلت حفشا، ولبست شر ثيابها، ولم تَمَسَّ طيبا ولا شيئا حتى تمر بها سنة، ثم تؤتى بدابة -حمار أو طير أو شاة- فتَفْتَضُّ به! فقلما تفتض بشيء إلا مات! ثم تخرج فتُعطى بعرة؛ فترمي بها، ثم تراجع بعد ما شاءت من طيب أو غيره».

حدیث کی وضاحت: (زمانہ جاہلیت میں) جب کسی عورت کا شوہر مر جاتا تو وہ ای…

اسلام نے آ کر لوگوں کو بارِ جاہلیت سے چھٹکارا دلایا، خاص طور پر عورت کو۔ زمانۂ جاہلیت میں لوگ عورت کے ساتھ بہت برا سلوک کرتے اور اس پر ظلم ڈھاتے تھے۔چنانچہ اسلام نے عورت کے حقوق کو تحفظ فراہم کیا۔

اس حدیث میں اس بات کا بیان ہے کہ ایک عورت نبی ﷺ سے ایک مسئلہ میں شرعی حکم دریافت کرنے کے لئے آئی۔ اس نے آپ ﷺ کو بتایا کہ اس کی بیٹی کا شوہر فوت ہو گیا اور وہ اس کی وفات پر سوگ میں بیٹھی ہے۔ سوگ میں بیٹھی عورت زیب و زنیت سے گریز کرتی ہے، لیکن اس کی آنکھوں میں درد ہے۔ تو کیا اس کے لیے سرمہ استعمال کرنے کی رخصت ہے؟

آپ ﷺنے فرمایا: نہیں۔ آپ ﷺ نے بطور تاکید بار بار ایسا فرمایا۔

پھر آپ ﷺ نے اس مدت میں کمی فرما دی جس میں عورت کا اپنے خاوند کی حرمت کے پیش نظر سوگ میں بیٹھنا ضروری ہے، اور وہ چار ماہ اور دس دن ہیں۔ تو کیا وہ اس تھوڑی سی مدت بھی صبر نہیں کر سکتی جس میں کچھ آسانی ہے۔

حالانکہ زمانۂ جاہلیت میں عورتوں کا یہ حال تھا کہ تم میں سے جو عورت سوگ میں ہوتی وہ جنگلی جانور کی بل کی طرح کے ایک چھوٹے سے گھر میں گھس جاتی اور زیب و زینت، خوشبو، پانی کے استعمال اور لوگوں کے ساتھ میل جول سے گریز کرتی تھی۔ اس کی وجہ سے اس پر تہ در تہ میل کچیل اور گندگیاں جم جاتیں۔ وہ پورے ایک سال لوگوں سے الگ تھلگ رہتی۔

جب اس سے وہ فارغ ہوتی تو اسے ایک مینگنی دی جاتی جسے وہ پھینک دیتی۔ یہ اس بات کا اشارہ ہوتا کہ اس پر جو تنگی و سختی اور پریشانی آئی ہے وہ خاوند کے حق کے مقابلے میں اس مینگنی کے بھی برابر نہیں۔

اسلام نے آکر اس سختی کو ان کے لیے نعمت اور تنگی کو کشادگی میں بدل دیا۔ کیا اب وہ اپنی آنکھ میں سرمہ لگانے سے صبر نہیں کر سکتی۔ چنانچہاس کے لیے کوئی رخصت نہیں تاکہ کہیں سوگ پر بیٹھی عورت کے لیے اس کی وجہ سے زیب و زینت کا دروازہ نہ کھل جائے۔

موضوعات : عدت

بسم الله الرحمن الرحيم منگل 15 جمادی الاول
الثلاثاء 15 جمادى الأولى
بدر پورا چاند دن 16.6 / 29.5
روشنی 96%
نیا چاند 13 دنوں میں
اللهم صل على محمد اے اللہ محمد پر درود بھیج

إِنَّ ٱللَّهَ وَمَلَٰٓئِكَتَهُۥ يُصَلُّونَ عَلَى ٱلنَّبِىِّ ۚ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ صَلُّوا۟ عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا۟ تَسْلِيمًا

خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں۔ مومنو تم بھی ان پر دُرود اور سلام بھیجا کرو

Al-Ahzab 33:56

نبی پر درود