اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > جو شخص کسی میت کو غسل دے، اور اس کی پردہ پوشی کرے تو اللہ تعالی اسے چالیس مرتبہ معاف فرمائ…
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن أبي رافع رضي الله عنه مرفوعاً: «من غسَّل ميتاً فكتم عليه، غفر الله له أربعين مرة».
اس حدیث میں اس شخص کی فضیلت کا بیان ہے جو میت کو غسل دیتا ہے اور اس کے کسی عیب کو دیکھ کر اس پر پردہ ڈالتا ہے۔ میت کی کسی ناپسندیدہ حالت کو دیکھنا دو طرح کا ہوتا ہے۔ ایک یہ کہ جو اس کی حالت سے تعلق رکھے اور دوسرے وہ جو اس کے جسم اور بدن سے تعلق رکھے۔ پہلی قسم جیسے نہلانے والا دیکھے کہ میت کا چہرہ تبدیل ہوگیا ہے، کالا اور بدصورت ہوگیا ہے، عموماً یہ اس کے بُرے خاتمے کی علامت سمجھی جاتی ہے، اللہ کی پناہ، سو نہلانے والوں کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ لوگوں کو یہ کہتا پھرے کہ میں نے اس شخص کو اس حالت میں دیکھا، اس لیے کہ یہ اس کے عیوب کو بیان کرنا ہے، حالانکہ یہ میت اپنے رب کے ہاں چلا گیا ہے اور عنقریب وہ اپنے عدل و فضل کے مطابق اسے بدلہ دے گا۔ دوسرے یہ کہ نہلانے والا میت کی پیٹھ پر کوئی عیب دیکھے جسے وہ اپنی زندگی میں لوگوں سے چھُپاتا رہا، تو اس عیب کو چُھپانے والے کے لیے اجرِ عظیم چالیس مرتبہ معافی کی صورت میں ملے گا۔
موضوعات : غسلِ میت۔