میں اور رسول اللہ ﷺ ایک ہی برتن (میں موجود پانی) سے غسلِ جنابت کرتے اور (چلو بھرنے کے لیے)…

اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > میں اور رسول اللہ ﷺ ایک ہی برتن (میں موجود پانی) سے غسلِ جنابت کرتے اور (چلو بھرنے کے لیے)…

حدیث کے راوی: اسے ابنِ حبان نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہ

صحیح

27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا

📖 1 منٹ مطالعہ

حدیث کا متن: میں اور رسول اللہ ﷺ ایک ہی برتن (میں موجود پانی) سے غسل…

عن عائشة رضي الله عنها قالت: «كُنت أغْتَسِل أنا ورسول الله صلى الله عليه وسلم من إناء واحد، تَخْتَلِفُ أَيْدِينَا فيه من الجَنَابة».
وفي رواية: «وتَلْتَقِي».

حدیث کی وضاحت: میں اور رسول اللہ ﷺ ایک ہی برتن (میں موجود پانی) سے غسل…

اماں عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کر رہی ہیں کہ وہ آپ ﷺ کے ساتھ غسل کرتے ہوئے ایک ہی برتن میں موجود پانی استعمال کرتی تھیں تاکہ حدثِ اکبر یعنی جنابت کو دور کر سکیں۔ اپنی اس شراکت کی ہیئت کو بیان کرتے ہوئے وہ فرماتی ہیں: "تختلف أيدينا فيه'' یعنی کبھی میں اپنے ہاتھ کو چلو بھرنے کے لیے برتن میں داخل کرتی اور کبھی آپ ﷺ اس سے چلو بھرنے کے لیے اپنا ہاتھ اس میں لے جاتے۔جیسا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی بخاری شریف کی روایت میں ہے کہ ”میں اور رسول اللہ ﷺ ایک برتن سے غسل کرتے اور ہم دونوں ہی اس سے چلو بھرتے“۔

جب کہ ابن حبان کی دوسری روایت میں انہوں نے اکٹھے غسل کرنے کی اس ہیئت کو بڑے دقیق انداز میں بیان کیا ہے۔ وہ فرماتی ہیں کہ: ”وتَلْتَقِي“ یعنی برتن سے پانی لیتے ہوئے اور چلو بھرتے ہوئے ہمارے ہاتھ اکٹھے ہو جاتے۔

اس روایت کی بنا پر معلوم ہوتا ہے کہ کبھی تو ہاتھ باری باری چُلّو بھرتے اور کبھی اکٹھے چلو بھرتے۔

موضوعات : غسل کرنا۔

بسم الله الرحمن الرحيم منگل 15 جمادی الاول
الثلاثاء 15 جمادى الأولى
بدر پورا چاند دن 16.6 / 29.5
روشنی 96%
نیا چاند 13 دنوں میں
لا حول ولا قوة إلا بالله اللہ کے بغیر کوئی طاقت اور قوت نہیں

إِنَّ ٱللَّهَ وَمَلَٰٓئِكَتَهُۥ يُصَلُّونَ عَلَى ٱلنَّبِىِّ ۚ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ صَلُّوا۟ عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا۟ تَسْلِيمًا

خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں۔ مومنو تم بھی ان پر دُرود اور سلام بھیجا کرو

Al-Ahzab 33:56

نبی پر درود