رسول اللہ ﷺ اپنے سر پر تین دفعہ پانی ڈالا کرتے تھے

اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > رسول اللہ ﷺ اپنے سر پر تین دفعہ پانی ڈالا کرتے تھے

حدیث کے راوی: اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہ

صحیح

27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا

📖 1 منٹ مطالعہ

حدیث کا متن: رسول اللہ ﷺ اپنے سر پر تین دفعہ پانی ڈالا کرتے تھے

عن أبي جعفر محمد بن علي بن الحسين بن علي بن أبي طالب أَنَّه كان هو وأبوه عند جابر بن عبد الله، وعنده قوم، فسألوه عن الغسل؟ فقال: صَاعٌ يَكْفِيكَ، فقال رجل: ما يَكْفِينِي، فقال جابر: كان يَكْفِي من هو أَوفَى مِنْكَ شَعْرًا، وخَيرًا مِنكَ -يريد رسول الله- صلى الله عليه وسلم ثُمَّ أَمَّنَا في ثَوبٍ.
وفي لفظ: ((كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يُفْرِغُ المَاءَ على رَأسِهِ ثَلاَثًا)).

حدیث کی وضاحت: رسول اللہ ﷺ اپنے سر پر تین دفعہ پانی ڈالا کرتے تھے

ابو جعفر محمد بن علی اور ان کے والد، جلیل القدر صحابی جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کے پاس کچھ اور لوگ بھی تھے۔ ان میں سے ایک شخص نے جابر رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ غسلِ جنابت کے لیے پانی کی کتنی مقدار کافی ہے؟ انھوں نے جواب دیا: ”تمھارے لیے ایک صاع پانی کافی ہے“۔

جابر رضی اللہ عنہ کے پاس موجود لوگوں میں حسن بن محمد بن حنفیہ بھی تھے۔ وہ کہنے لگے کہ غسل جنابت کے لیے میرے لیے اس قدر پانی کافی نہیں ہے۔

اس پر جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اتنا پانی ان کے لیے کافی ہو جایا کرتا تھا، جن کے بال تم سے زیادہ لمبے اور گھنے تھے اور وہ تم سے بہتر تھے اور یقینا ان کو اپنی طہارت اور دین کی تم سے زیادہ فکر تھی۔ ان کی مراد نبی ﷺ تھے۔ اس حدیث میں اتباعِ سنت اور اس بات کی ترغیب ہے کہ دوران غسل پانی کا فضول استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ پھر جابر رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کو نماز پڑھائی۔

موضوعات : غسل کرنا۔

بسم الله الرحمن الرحيم منگل 15 جمادی الاول
الثلاثاء 15 جمادى الأولى
بدر پورا چاند دن 16.5 / 29.5
روشنی 97%
نیا چاند 13 دنوں میں
الحمد لله اللہ کی حمد

إِنَّ ٱللَّهَ وَمَلَٰٓئِكَتَهُۥ يُصَلُّونَ عَلَى ٱلنَّبِىِّ ۚ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ صَلُّوا۟ عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا۟ تَسْلِيمًا

خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں۔ مومنو تم بھی ان پر دُرود اور سلام بھیجا کرو

Al-Ahzab 33:56

نبی پر درود