اسلام > Ur > حدیث > عقیدہ > میں نے جبریل علیہ السلام کو سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھا۔ ان کے چھ سو پر تھے۔ ان کے پر سے مخ…
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن ابن مسعود رضي الله عنه أنه قال في هذه الآية: {ولقد رآه نَزْلَةً أُخرى} [النجم: 13]، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «رأيتُ جبريلَ عند سِدْرةِ المُنْتَهى، عليه ستُّمائة جَناح، يَنْتَثِرُ من رِيشِه التَّهاوِيلُ: الدُّرُّ والياقُوتُ».
اللہ تعالیٰ کے فرمان: ”اسے تو ایک مرتبہ اور بھی دیکھا تھا“ کی تفسیر میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ذکر کیا کہ نبی ﷺ نے بتایا کہ آپ نے جبریل علیہ السلام کو جنت کے اوپر سدرۃ المنتہیٰ کے پاس، ان کی اس ہیئت و خلقت میں دیکھا، جس پر اللہ تعالیٰ نے ان کی تخلیق فرمائی ہے۔ ان کے چھ سو پر تھے۔ ان کے پروں سے مختلف رنگ کے موتی اور یاقوت جھڑ رہے تھے۔
موضوعات : فرشتے