اسلام > Ur > حدیث > قرآن کریم اور اس کے علوم > علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ کیا آپ کے پاس قرآن کے علاوہ کچھ اور وحی بھی ہے؟ علی رضی ا…
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 2 منٹ مطالعہعن أبي جحيفة رضي الله عنه قال: قلت لعلي رضي الله عنه : هل عندكم شيء من الوحي إلا ما في كتاب الله؟ قال: «لا والذي فَلَقَ الحَبَّةَ، وبَرَأَ النَّسْمَةَ، ما أعلمه إلا فَهْمَاً يُعطيه الله رجلا في القرآن، وما في هذه الصحيفة»، قلت: وما في الصحيفة؟ قال: «العَقْلُ، وفِكَاكُ الأَسير، وأن لا يُقتَلَ مسلم بكافر».
ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ نے علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی ﷺ نے آپ کو بطورِ خاص کوئی ایسا علم یا تحریر دی ہے جو دوسرے لوگوں کو نہ دی ہو؟۔ ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ نے علی رضی اللہ عنہ سے یہ سوال اس لیے کیا کیونکہ شیعوں کے ایک گروہ کا یہ گمان تھا کہ اہلِ بیت اور خصوصاً علی رضی اللہ عنہ کے پاس وحی پر مشتمل کچھ ایسی چیزیں ہیں جو نبی ﷺ نے بطورِ خاص انہی کو عنایت فرمائی تھیں اور کسی اور کو اس کا علم نہیں۔ علی رضی اللہ عنہ سے یہ سوال ایک سے زیادہ لوگوں نے کیا۔ اس پر علی رضی اللہ عنہ نے انہیں ایک ایسی قسم کھا کر جواب دیا جو عرب لوگ کھایا کرتے تھے کہ اس اللہ کی قسم جس نے انسان کو پیدا فرمایا اور بیج کو پھاڑ کر اگایا! ان کے پاس سوائے اس (قرآنی ) سمجھ بوجھ کے جو اللہ اپنے بندے کو عنایت فرما دیتا ہے اور سوائے اس نوشتہ کے کچھ بھی نہیں جس میں انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے منقول کچھ باتیں لکھ رکھی تھیں، جس میں دیت اور مسلمان قیدیوں کو قید سے نجات دلانے سے متعلق احکام مندرج تھیں اور یہ لکھا ہوا تھا کہ مسلمان کو کافر کے بدلے میں قتل نہیں کیا جائے گا کیونکہ کافر مسلمان کا ہم پلہ نہیں ہوتا ہے کہ اُس کے بدلے میں اِسے قتل کردیا جائے بلکہ وہ اِس سے کم تر ہوتا ہے۔
موضوعات : قرآن سے استنباط