اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > اسے دے دو اس لیے کہ بہتر لوگ وہ ہیں جو اپنے قرض کی ادائیگی میں بہتر ہوں۔
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 2 منٹ مطالعہعن أبي هريرة رضي الله عنه : أن رجلًا أتى النبي صلى الله عليه وسلم يَتَقَاضَاهُ فَأغْلَظَ له، فَهَمَّ به أصحابه، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «دَعُوه، فإن لِصَاحب الحَقِّ مَقَالا» ثم قال: «أعْطُوهُ سِنًّا مِثْل سِنِّهِ» قالوا: يا رسول الله، لا نَجِدُ إلا أمْثَلَ مِنْ سِنِّهِ، قال: «أعْطُوه، فإن خَيْرَكم أحْسَنُكُم قَضَاء».
نبی ﷺ کے ذمہ ایک شخص کا قرض تھا ،آپ ﷺ نے اس آدمی سےایک چھوٹا اونٹ قرض کے طور پر لیا تھا (ایک دن) وہ آدمی آپ ﷺ سے اپنے قرض کا مطالبہ کرنے کے لیے آیا اور اس نے آپ ﷺ قرض کی واپسی کا سختی سے مطالبہ کیا۔ نبی ﷺ کے صحا بہ نے اس کو اس کی گستا خی اورتلخ کلامی پر زد و کوب کرنے کا ارادہ کیا۔ رسول الله ﷺ نے (صحا بہ کرام سے ) فرمایا: اسے چھوڑ دو، اور جو کہنا چاہتا ہے ادب کے دائرے میں کہنے دو، اس لیے کہ حق دار کو جس پر اس کا قرض باقی ہے اسے اس کی ادائیگی کے مطالبہ وغیرہ کا پورا پورا حق حاصل ہے، رہا مسئلہ گالی گلوج اور ایذا رسانی کا تو یہ ایک مسلمان کے اخلاق کے منافی ہے۔ پھر نبی ﷺ نے بعض صحا بہ کو حکم دیا کہ اسے اتنی عمر کا جانور دے دو. صحابہ نے عرض کیا ہم نہیں پاتے مگر اس سے زیادہ عمر والا اونٹ آپ نےفرمایا: اسے زیادہ عمر والا اونٹ ہی دے دو اس لیے کہ اچھے انسان لوگوں کے معاملات میں اور اجرو ثواب کے اعتبار سے بھی وہ ہیں جو اپنے قرض اور حقوق کی ادائیگی میں بہتر ہوں۔
موضوعات : قرض · آپ ﷺ کی نرمی