اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > ایک لڑکی کا سر دو پتھروں کے درمیان رکھ کر کچل دیا گیا تھا۔
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن أنَسُ بنُ مالك رضي الله عنه قال: «أَنَّ جَارِيَةً وُجِدَ رَأْسُهَا مَرْضُوضاً بَيْنَ حَجَرَيْنِ، فَقِيلَ من فَعَلَ هَذَا بِك: فُلانٌ، فُلانٌ؟ حَتَّى ذُكِرَ يَهُودِيٌّ، فَأَوْمَأَتْ بِرَأْسِهَا، فَأُخِذَ الْيَهُودِيُّ فَاعْترف، فَأَمَرَ النَّبِي صلى الله عليه وسلم أَنْ يُرَضَّ رَأْسَهُ بَيْنَ حَجَرَيْنِ».
وَلِمُسْلِمٍ وَالنَّسَائِيَّ «أَنَّ يَهُودِيّاً قَتَلَ جَارِيَةً عَلَى أَوْضَاحٍ، فَأَقَادَهُ رَسُولُ الله».
نبی ﷺ کے زمانے میں ایک لڑکی اس حال میں پائی گئی کہ اس کا سر دو پتھروں کے درمیان رکھ کر کچل دیا گیا تھا اور اس میں زندگی کی کچھ رمق باقی تھی۔ لوگوں نے اس کے قاتل کے بارے میں تحقیق کرنے لیے، اس کے سامنے ان افراد کے نام گنانے شروع کر دیے، جن کے بارے میں اس بات کا گمان تھا کہ وہ اس کو قتل کرسکتے ہیں، تا آں کہ ایک یہودی کا نام لینے پر اس لڑکی نے اپنے سر سے مثبت اشارہ دیا کہ ہاں! اسی شخص نے اس کا سر کچلا ہے۔ چنانچہ وہ اس کے قتل کا ملزم قرار پاگیا۔ لوگوں نے اس کو پکڑ لیا اور اس سے جرم کا اقرار کروایا، تاآں کہ اس نے اس لڑکی کو، اس کے چاندی کے زیورات کو حاصل کرنے کی غرض سے قتل کرنے کا اعتراف کرلیا۔ لہٰذا نبی ﷺ نے ”جیسے کو تیسا“ کے اصول کے مطابق، اس کو سزا دیتے ہوئے اس کا سر بھی دو پتھروں کے درمیان رکھ کر کچل دینے کا حکم دیا۔
موضوعات : قصاص