اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > (دنیا میں) ریشم تو صرف وہی مرد پہنتا ہے جس کا (آخرت میں) کوئی حصہ نہیں۔
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن عمر بن الخطاب رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم :"لا تلبسوا الحرير فإن من لبسه في الدنيا لم يلبسه في الآخرة".
وفي رواية: «إِنَّمَا يَلْبَسُ الحَرِيرَ مَنْ لا خَلَاقَ له».
وفي رواية للبخاري: «مَنْ لا خَلَاقَ له في الآخرةِ».
نبی ﷺ نے بتایا کہ مردوں میں سے ریشم صرف وہی پہنتا ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہ ہو۔ اس میں سخت وعید ہے کیونکہ ریشم عورتوں اور جنتیوں کا لباس ہے اور دنیا میں اسے صرف وہی لوگ پہنتے ہیں جن میں تکبر، خود پسندی اور غرور ہو۔ اسی وجہ سے اس کے پہننے سے منع کیا گیا ہے۔ یہ ممانعت قدرتی ریشم سے متعلق ہے تاہم انسان (مرد) کے لیے مناسب یہی ہے کہ وہ مصنوعی ریشم بھی نہ پہنے کیونکہ اس میں نسوانیت کی جھلکہوتی ہے، البتہ یہ حرام نہیں ہے، جیسا کا دائمی کمیٹی برائے فتوی (سعودی عرب) نے مصنوعی رشیم کے مباح ہونے کا فتوی دیا ہے۔
موضوعات : لباس اور زیب و زینت