اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > تمہیں معلوم ہے، مجزز (ایک قیافہ شناس) نے ابھی ابھی زید بن حارثہ اور اسامہ بن زید کو (چادر …
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 2 منٹ مطالعہعن عائشة رضي الله عنها : أن رسول الله صلى الله عليه وسلم دخل عليَّ مسرورًا تبرُقُ أسارِيرُ وجهه. فقال: ألم تَرَيْ أن مُجَزِّزًا نظر آنفًا إلى زيد بن حارثة وأسامة بن زيد، فقال: إن بعض هذه الأقدام لمن بعض».
وفي لفظ: «كان مجزِّزٌ قائفًا».
زید بن حارثہ کا رنگ گورا تھا جب کہ ان کے بیٹے اسامہ گندمی رنگ کے تھے۔ لوگ ان کے رنگ ایک دوسرے سے مختلف ہونے کی وجہ سے ان کے بارے میں شک کیا کرتے تھے اور اسامہ رضی اللہ عنہ کی اپنے والد کی طرف نسبت کی صحت میں باتیں کیا کرتے تھے اور اس کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ کو بہت اذیت پہنچتی تھی۔
ایک دفعہ مجزز مدلجی کا جو قیافہ شناس تھا ان کے قریب سے گزر ہوا۔ ان دونوں نے اپنے سروں کو ایک چادر سے ڈھانپ رکھا تھا لیکن ان کے پاؤں باہر نظر آرہے تھے۔
اس نے یہ دیکھ کر کہا کہ یہ پاؤں ایک دوسرے سے ہیں کیونکہ اسے ان کے مابین مشابہت نظر آئی تھی۔
نبی ﷺ اس قیافہ شناس کی بات کو سن رہے تھے۔ آپ ﷺ اس سے بہت خوش ہوئے یہاں تک کہ آپ ﷺ اس حال میں عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے کہ آپ کا چہرہ اس بات پر خوشی و اطمئنان کی وجہ سے دمک رہا تھا کہ اسامہ رضی اللہ عنہ کی اپنے والد کی طرف نسبت درست ہے اور اس لیے بھی کہ اس سے ان لوگوں کی باتوں کا رد ہو گیا تھا جو بلا کچھ جانے لوگوں کی عزتوں میں اپنی زبانیں چلاتے ہیں۔
موضوعات : لعان