جب تم میں سے کسی کو دعوت دی جائے تو اسے قبول کرنی چاہیے، اگر وہ روزہ سے ہو تو اس کے حق میں…

اسلام > Ur > حدیث > فضائل و آداب > جب تم میں سے کسی کو دعوت دی جائے تو اسے قبول کرنی چاہیے، اگر وہ روزہ سے ہو تو اس کے حق میں…

حدیث کے راوی: اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

صحیح

27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا

📖 1 منٹ مطالعہ

حدیث کا متن: جب تم میں سے کسی کو دعوت دی جائے تو اسے قبول کرنی چاہیے…

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «إذا دُعِيَ أحدكم فليُجب، فإن كان صائما فليُصَلِّ، وإن كان مُفْطِرا فليَطْعَمْ».

حدیث کی وضاحت: جب تم میں سے کسی کو دعوت دی جائے تو اسے قبول کرنی چاہیے…

اس حدیث سے یہ فوائد مستفاد ہوتے ہیں کہ جب مسلمان کو اس کا بھائی، نکاح کے ولیمہ کی دعوت دے تو اس پر ضروری ہے کہ وہ اس کی دعوت کو قبول کرے تاکہ اس کی خوب دلجوئی کا سامان ہو اور اپنے اس بھائی کی خوشی و مسرت کے اس موقع پر باہم شریک ہوسکے اور اگر وہ قضاء اور نذر جیسا کوئی فرض روزہ رکھ رہا ہو تو دعوت میں حاضر تو ہوجائے تاہم کھانے میں شریک نہ ہو، البتہ ان کے حق میں خیر اور برکت کی دعاء کرے اور اگر نفلی روزہ سے ہو تو روزہ توڑ کر دعوت دینے والے کے ساتھ کھانا سکتا ہے یا چاہے تو اپنا روزہ مکمل کرسکتا ہے، تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ میزبان کو اپنے روزہ سے رہنے یا نہ رہنے کی خبر پہنچادے تاکہ اس کے لیے تنگی و پریشانی کا باعث نہ ہو، لیکن دعوت میں اس کا جانا اور شرکت کرنا ایک تاکیدی حکم کی حیثیت رکھتا ہے چاہے وہ روزہ سے نہ ہو یا روزے ہی سے ہو۔

موضوعات : ملاقات کرنے اور اجازت چاہنے کے آداب

بسم الله الرحمن الرحيم بدھ 16 جمادی الاول
الأربعاء 16 جمادى الأولى
أحدب متناقص گھٹتا ہوا گول چاند دن 16.7 / 29.5
روشنی 96%
نیا چاند 13 دنوں میں
لا إله إلا الله اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں

إِنَّ ٱللَّهَ وَمَلَٰٓئِكَتَهُۥ يُصَلُّونَ عَلَى ٱلنَّبِىِّ ۚ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ صَلُّوا۟ عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا۟ تَسْلِيمًا

خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں۔ مومنو تم بھی ان پر دُرود اور سلام بھیجا کرو

Al-Ahzab 33:56

نبی پر درود