نبی کریم ﷺ فجر ہونے کے بعد دو ہلکی رکعتیں (سنت فجر) پڑھتے۔

اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > نبی کریم ﷺ فجر ہونے کے بعد دو ہلکی رکعتیں (سنت فجر) پڑھتے۔

حدیث کے راوی: اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔

صحیح

27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا

📖 2 منٹ مطالعہ

حدیث کا متن: نبی کریم ﷺ فجر ہونے کے بعد دو ہلکی رکعتیں (سنت فجر) پڑھ…

عن حفصة رضي الله عنها «أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يُصلي ركعتين خَفيفتين بعد ما يَطلع الفجر»، وفي رواية: قبل أن تُقام الصلاة.

حدیث کی وضاحت: نبی کریم ﷺ فجر ہونے کے بعد دو ہلکی رکعتیں (سنت فجر) پڑھ…

اس حدیث میں اُمّ المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا آپ ﷺ کی کیفیت بتا رہی ہیں کہ آپ دو رکعات پڑھتے تھے، یہ فجر کی دو رکعت سنتِ مؤکدہ ہیں، اس سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے۔ صحیح مسلم میں حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب فجر طلوع ہوتی تو آپ ﷺ مختصر سی دو رکعات پڑھتے تھے۔

حدیث میں جو ”خَفيفتين“ فرمایا گیا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ قیام، رکوع اور سجود میں اختصار فرماتے، بہت زیادہ مختصر ہونے کی وجہ سے عائشہ رضی اللہ عنہا بخاری کی روایت میں فرماتی ہے ”هل قرأ بأمُّ الكتاب؟“ کہ آپ نے فاتحہ پڑھی ہے یا نہیں؟ مؤطّا کی روایت میں ہے کہ آپ ﷺ فجر کی دو رکعتیں ہلکی پڑھتے تھے، یہاں تک کہ میں کہتی آپ فاتحہ پڑھتے ہیں بھی یا نہیں؟ اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ اس میں اتنی جلدی کرتے تھے کہ نماز کے ارکان قیام، رکوع اور سجود میں خلل پڑتا۔ اس کا صحیح مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ باقی نفلی عبادات جن کو طویل کرنے کی آپ کو عادت تھی ان کی بنسبت اسے مختصر پڑھتے تھے۔

”بَعْدَ ما يَطْلُعُ الفَجْرُ“ یعنی طلوعِ فجر کے بعد ان دو رکعات کے پڑھنے میں جلدی کرتے تھے۔ ”قَبْلَ أنْ تُقَامَ الصَّلَاةُ“ یعنی فجر کی دو رکعت سنت پڑھنے کا وقت طلوع فجر سے لے کر فجر کی فرض نماز تک ہے۔

موضوعات : موکدہ سنتیں

بسم الله الرحمن الرحيم منگل 15 جمادی الاول
الثلاثاء 15 جمادى الأولى
بدر پورا چاند دن 16.5 / 29.5
روشنی 97%
نیا چاند 13 دنوں میں
سبحان الله اللہ کی تسبیح

إِنَّ ٱللَّهَ وَمَلَٰٓئِكَتَهُۥ يُصَلُّونَ عَلَى ٱلنَّبِىِّ ۚ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ صَلُّوا۟ عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا۟ تَسْلِيمًا

خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں۔ مومنو تم بھی ان پر دُرود اور سلام بھیجا کرو

Al-Ahzab 33:56

نبی پر درود