دو الگ الگ ملتوں کے لوگ ایک دوسرے کے وارث نہیں بن سکتے

اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > دو الگ الگ ملتوں کے لوگ ایک دوسرے کے وارث نہیں بن سکتے

حدیث کے راوی: اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔

حَسَنْ

27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا

📖 1 منٹ مطالعہ

حدیث کا متن: دو الگ الگ ملتوں کے لوگ ایک دوسرے کے وارث نہیں بن سکتے

عن عبد الله بن عمرو رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «لا يَتَوَارَثُ أهل مِلَّتَيْنِ شتّى».

حدیث کی وضاحت: دو الگ الگ ملتوں کے لوگ ایک دوسرے کے وارث نہیں بن سکتے

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ دو الگ الگ ادیان کے لوگ ایک دوسرے کے وارث نہیں بن سکتے۔ چنانچہ مسلمان یہودی یا عیسائی کا وارث نہیں بنے گا اور اسی طرح یہ لوگ مسلمان کے وارث نہیں بن سکتے، کیونکہ یہاں ایک دوسرے کے وارث بننے کی ایک شرط یعنی اتحاد دین، مفقود ہے۔ لہذا، جہاں بھی دین الگ ہوگا، وہاں وارث بننے اور بنانے کی بات نہیں آئے گی۔ یہی جمہور فقہا کا قول ہے۔

موضوعات : میراث کے موانع

بسم الله الرحمن الرحيم منگل 15 جمادی الاول
الثلاثاء 15 جمادى الأولى
بدر پورا چاند دن 16.6 / 29.5
روشنی 96%
نیا چاند 13 دنوں میں
الحمد لله اللہ کی حمد

إِنَّ ٱللَّهَ وَمَلَٰٓئِكَتَهُۥ يُصَلُّونَ عَلَى ٱلنَّبِىِّ ۚ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ صَلُّوا۟ عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا۟ تَسْلِيمًا

خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں۔ مومنو تم بھی ان پر دُرود اور سلام بھیجا کرو

Al-Ahzab 33:56

نبی پر درود