(پہلے) اسے کھرچے، پھر پانی سے رگڑے اور پانی سے دھو ڈالے اور اسی کپڑے میں نماز پڑھ لے۔

اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > (پہلے) اسے کھرچے، پھر پانی سے رگڑے اور پانی سے دھو ڈالے اور اسی کپڑے میں نماز پڑھ لے۔

حدیث کے راوی: متفق علیہ

صحیح

27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا

📖 1 منٹ مطالعہ

حدیث کا متن: (پہلے) اسے کھرچے، پھر پانی سے رگڑے اور پانی سے دھو ڈالے…

عن أسماءَ رضي الله عنها قالت: جاءت امرأةٌ النبيَّ صلى الله عليه وسلم فقالت: أرأَيْتَ إحدانا تَحِيضُ في الثَّوب، كيف تصنعُ؟ قال: «تَحُتُّهُ، ثم تَقْرُصُه بالماء، وتَنْضَحُه، وتُصَلِّي فيه».

حدیث کی وضاحت: (پہلے) اسے کھرچے، پھر پانی سے رگڑے اور پانی سے دھو ڈالے…

اسما بنت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنھا ذکر فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ سے کپڑوں کو لگ جانے والے حیض کے خون کے بارے میں دریافت کیا گیا، تو آپ ﷺ نے کپڑے سے اس کو زائل کرنے کی کیفیت یوں بیان فرمائی کہ عورت سب سے پہلے اس کو کھرچے گی؛ تاکہ جما ہوا خون نکل جائے، پھر خون لگے مقام کو اپنی انگلیوں کے کناروں سے رگڑے گی؛ تاکہ اس کے ذریعہ اس کی سختی دور ہو جائے اور کپڑے میں جذب شدہ خون نکل جائے اور پھر اس کے بعد اس کو دھو ئے گی؛ تاکہ بچی ہوئی نجاست زائل ہوجائے۔ اس ضمن میں اس ترتیب کا لحاظ رکھے، جو خشک نجاست کو دور کرنے میں نہایت ہی قابل عمل نمونہ ہے؛ کیوں کہ اگر اس ترتیب کا خیال نہ رکھا جائے، تو نجاست پھیل کر اس جگہ بھی لگ جائے گی، جہاں قبل ازیں نہ لگی تھی۔ اس طرح اس عورت کے لیے جائز ہوگا کہ اس طریقے سے اس حیض کے کپڑے کو پاک کرنے کے بعد اسی میں نماز پڑھے۔

موضوعات : نجاستوں کا ازالہ · حیض، نفاس اور استحاضہ

بسم الله الرحمن الرحيم بدھ 16 جمادی الاول
الأربعاء 16 جمادى الأولى
أحدب متناقص گھٹتا ہوا گول چاند دن 16.7 / 29.5
روشنی 96%
نیا چاند 13 دنوں میں
سبحان الله اللہ کی تسبیح

إِنَّ ٱللَّهَ وَمَلَٰٓئِكَتَهُۥ يُصَلُّونَ عَلَى ٱلنَّبِىِّ ۚ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ صَلُّوا۟ عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا۟ تَسْلِيمًا

خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں۔ مومنو تم بھی ان پر دُرود اور سلام بھیجا کرو

Al-Ahzab 33:56

نبی پر درود