اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > اسے کہو کہ وہ گفتگو کرے، سایہ حاصل كرے، بیٹھ جائے اور اپنا روزہ پورا کرے۔
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن ابن عباس رضي الله عنهما ، قال: بينما النبي صلى الله عليه وسلم يخطب إذا هو برجل قائم فسأل عنه، فقالوا: أبو إسرائيل نذر أن يقوم في الشمس ولا يقعد، ولا يستظل؛ ولا يتكلم، ويصوم، فقال النبي صلى الله عليه وسلم : «مروه، فليتكلم، وليستظل، وليقعد، وليتم صومه».
اس صحابی نے نذر مانی تھی کہ وہ بات چيت اورکھانا پینا ترک کرديں گےِ, دھوپ میں کھڑے رہیں گے اور سا یہ نہيں حاصل كريں گے۔ چونکہ اس نذرمیں نفس کی ایذا رسانی اوراس کے لیے مشقت تھی، اور اس قسم کی نذر حرام ہے، اسی وجہ سے نبی ﷺ نے اس سے منع فرمایا، ليكن آپ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ اپنا روزہ پورا کریں کیونکہ یہ ایک مشروع عبادت ہے۔ بنابریں جو شخص کسی مشروع عبادت کی نذر مانے تو اس کے لیے اسے انجام دینا ضروری ہے۔ نیزجو شخص کسی غیر شرعی عبادت کی نذر مانے تو اس کے لیے اس کا پورا کرنا لازم نہیں ہے۔
موضوعات : نذریں