اگر تم مہینے کے تین روزے رکھو، تو تیرہ، چودہ اور پندرہ تاریخ کے روزے رکھا کرو۔

اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > اگر تم مہینے کے تین روزے رکھو، تو تیرہ، چودہ اور پندرہ تاریخ کے روزے رکھا کرو۔

حدیث کے راوی: اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔

حَسَنْ

27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا

📖 2 منٹ مطالعہ

حدیث کا متن: اگر تم مہینے کے تین روزے رکھو، تو تیرہ، چودہ اور پندرہ…

عن أبي ذر رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «إِذَا صُمْتَ مِنَ الشَّهْرِ ثَلاَثاً، فَصُمْ ثَلاَثَ عَشْرَةَ، وَأرْبَعَ عَشْرَةَ، وَخَمْسَ عَشْرَةَ».
عن قتادة بن ملحان رضي الله عنه قال: كانَ رسولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم يَأمُرُنَا بِصِيَامِ أيَّامِ البِيضِ: ثَلاثَ عَشْرَةَ، وَأرْبَعَ عَشْرَةَ، وَخَمْسَ عَشْرَةَ.
عن ابن عباس رضي الله عنهما قال: كانَ رسولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم لاَ يُفْطِرُ أيَّامَ البِيضِ في حَضَرٍ وَلاَ سَفَرٍ.

حدیث کی وضاحت: اگر تم مہینے کے تین روزے رکھو، تو تیرہ، چودہ اور پندرہ…

ابو ذر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ”إذا صمت“ یعنی اے ابو ذر!جب تم روزے رکھو۔ ”من الشهر“ یعنی کوئی بھی مہینہ ہو، ”ثلاثا“ یعنی تین دنوں تک تم نفلی روزے رکھنا چاہو۔ ”فَصُمْ ثلاث عشرة، وأربع عشرة، وخمس عشرة“ یعنی مہینے کی تیرہویں تاریخ اور اس کے بعد دو دن کا روزہ رکھا کرو۔ ان تین ایام کو ایام بیض اس لیے کہتے ہیں کہ ان سے مراد روشن راتوں کے دن ہیں، اس لیے کہ یہ راتیں چاند کی وجہ سے روشن ہوتی ہیں۔ ان دونوں کا روزہ رکھنا مستحب ہے۔

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایامِ بیض میں افطار نہیں کیا کرتے تھے۔ ایّامِ بیض یعنی روشن راتوں کے دن، یہ تیرھویں، چودھویں اور پندرھویں راتیں ہیں، اس لیے کہ ان راتوں میں چاند رات کے ابتدا سے انتہا تک روشن رہتا ہے، بنابریں ان میں اللہ کے شکر کے طور پر روزہ رکھنا مناسب ہے، ”سفر اور حضر میں“ یعنی آپ ﷺ نے سفر اور حضر دونوں میں روزوں کا اہتمام کیا۔ ان میں روزے رکھنا سنتِ مؤکدہ ہے، آپ ﷺ مہینے میں ایامِ بیض کے روزوں کو ترجیح دیتے، اس لیے کہ یہ مہینے کے درمیان کے روزے ہیں اور کسی بھی چیز کا درمیانی حصہ سب سے معتدل ہوتا ہے۔

موضوعات : نفلی روزہ

بسم الله الرحمن الرحيم منگل 15 جمادی الاول
الثلاثاء 15 جمادى الأولى
بدر پورا چاند دن 16.5 / 29.5
روشنی 97%
نیا چاند 13 دنوں میں
سبحان الله وبحمده اللہ کی تسبیح اور حمد

إِنَّ ٱللَّهَ وَمَلَٰٓئِكَتَهُۥ يُصَلُّونَ عَلَى ٱلنَّبِىِّ ۚ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ صَلُّوا۟ عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا۟ تَسْلِيمًا

خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں۔ مومنو تم بھی ان پر دُرود اور سلام بھیجا کرو

Al-Ahzab 33:56

نبی پر درود