اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > میں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے دس رکعتیں محفوظ کی ہیں
صحيح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: حَفِظْتُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ رَكَعَاتٍ: رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الظُّهْرِ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَهَا، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ المَغْرِبِ فِي بَيْتِهِ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ العِشَاءِ فِي بَيْتِهِ، وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلاَةِ الصُّبْحِ، وَكَانَتْ سَاعَةً لاَ يُدْخَلُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا، حَدَّثَتْنِي حَفْصَةُ أَنَّهُ كَانَ إِذَا أَذَّنَ المُؤَذِّنُ وَطَلَعَ الفَجْرُ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، وَفِي لَفْظٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي بَعْدَ الْجُمُعَةِ رَكْعَتَيْنِ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بتا رہے ہیں کہ انھوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے نوافل کی دس رکعتیں محفوظ کی ہیں، جنھیں سنن رواتب کہا جاتا ہے۔ دو رکعت ظہر سے پہلے اور دو رکعت ظہر کے بعد۔ دو رکعت مغرب کے بعد گھر میں۔ دو رکعت عشا کے بعد گھر میں۔ دو رکعت فجر سے پہلے۔ اس طرح کل دس رکعتیں ہوئیں۔ رہی بات جمعے کی نماز کی، تو اس کے بعد آپ دو رکعت پڑھا کرتے تھے۔
موضوعات : نفل نماز · نماز میں آپ ﷺ کا طریقہ · نکاح اور اپنے اہلِ خانہ سے معاشرت میں آپ ﷺ کا طریقہ