اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ کا رسول اللہ ﷺ کے دس صحابہ کرام کے درمیان جن میں ابو قتادہ رضی…
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 2 منٹ مطالعہعن محمد بن عمرو بن عطاء، قال: سمعت أبا حميد الساعدي، في عشرة من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم منهم أبو قتادة، قال أبو حميد: أنا أَعلمُكم بصلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم ، قالوا: فَلِمَ؟ فوالله ما كنتَ بأكثرنا له تبعا ولا أقدمنا له صحبة، قال: بلى، قالوا: فاعْرِض، قال: " كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا قام إلى الصلاة يرفع يديه حتى يُحَاذِيَ بهما مَنْكِبَيْهِ ، ثم يُكبِّر حتى يَقِرَّ كل عظم في موضعه معتدلا، ثم يقرأ، ثم يكبِّر فيرفع يديه حتى يُحاذي بهما مَنْكبيه، ثم يركع ويضع رَاحَتَيْهِ على رُكبتيه، ثم يعتدل فلا يَصُبُّ رأسه ولا يُقْنِعُ ، ثم يرفع رأسه، فيقول: سمع الله لمن حمده، ثم يرفع يديه حتى يُحاذي بهما منكبيه معتدلا، ثم يقول: الله أكبر ثم يهوي إلى الأرض فيُجافي يديه عن جنبيه، ثم يرفع رأسه ويَثْني رجله اليسرى فيقعد عليها، ويفتح أصابع رجليه إذا سجد، ويسجد ثم يقول: الله أكبر، ويرفع رأسه ويَثْني رجله اليسرى فيقعد عليها حتى يرجع كل عظم إلى موضعه، ثم يصنع في الأخرى مثل ذلك، ثم إذا قام من الركعتين كبر ورفع يديه حتى يحاذي بهما منكبيه كما كبر عند افتتاح الصلاة، ثم يصنع ذلك في بقية صلاته حتى إذا كانت السجدة التي فيها التسليم أخر رجله اليسرى وقعد مُتَوَرِّكًا على شقه الأيسر، قالوا: صدقت هكذا كان يصلي صلى الله عليه وسلم .
حدیث شریف نبی ﷺ کی نماز کی کیفیت بیان کرتی ہے۔ اور جو (نبی ﷺ کی طرح) نماز کی ادائیگی کا ارادہ رکھتا ہو (اس کے لیے) یہی کامل ترین صورت ہے۔ اس حدیث میں نماز کے جملہ اعمال یعنی ارکان، واجبات اور مستحبات تکبیر سے لے کر تسلیم تک کو بیان کیا گیا ہے۔ جس کی تفصیل کچھ اس طرح ہے کہ آپ ﷺ جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو اپنے دونوں ہاتھ کندھوں کے برابر تک اٹھاتے، پھر تکبیرِ تحریمہ کہتے یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنے مقام پر خشوع وخضوع کے ساتھ بالکل سیدھی ہو جاتی، پھر آپ ﷺ قرأت کرتے، پھر ”اللہ اکبر“ کہتے اور دونوں ہاتھ اٹھاتے یہاں تک کہ انہیں اپنے دونوں کندھوں کے برابر کرلیتے، پھر رکوع کرتے اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کو اپنے دونوں گھٹنوں پر رکھتے، پھر سیدھے ہو جاتے اور اپنےسر کو نہ اوپر کی طرف اٹھاتے اور نہ ہی جھکاتے بلکہ سیدھا رکھتے، پھر اپنا سر اٹھاتے اور ”سمع الله لمن حمده“ کہتے، پھر اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے یہاں تک کہ سیدھا ہوکر انہیں اپنے دونوں کندھوں کے برابر کرتے پھر ”اللہ اکبر“ کہتے، پھر (سجدہ کرتے ہوئے) زمین پر گرتے تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں پہلوؤں سے جدا رکھتے، پھر اپناسر اٹھاتے اور اپنے بائیں پیر کو موڑتے اور اس پر بیٹھتے اور جب سجدہ کرتے تو اپنے دونوں پیر کی انگلیوں کو کھولے رکھتے اور (دوسرا) سجدہ کرتے پھر ”اللہ اکبر“ کہتے اور (دوسرے سجدہ سے) اپنا سر اٹھاتے اور اپنا بایاں پیر موڑتے اور اس پر بیٹھتے یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنی جگہ پر واپس آجاتی، پھر دوسری رکعت میں بھی ایسا ہی کرتے، پھر جب دوسری رکعت سے اٹھتے تو ”اللہ اکبر“ کہتے، اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے یہاں تک کہ انہیں اپنے دونوں کندھوں کے برابر تک لے جاتے جس طرح کہ نماز شروع کرنے کے وقت ”اللہ اکبر“ کہا تھا، پھر اپنی بقیہ نماز میں بھی اسی طرح کرتے یہاں تک کہ جب اس سجدہ سے فارغ ہوتے جس میں سلام پھیرنا ہوتا۔ - اسی طرح روایت میں ہے اور شارحین نے بیان کیا ہے کہ اس سے مراد وہ جلسہ ہے جس میں سلام پھیرا جاتا ہے، تو آپ ﷺ تورّک کرتے یعنی بایاں پاؤں ایک طرف نکال لیتے اور بائیں سرین پر ٹیک لگا کر بیٹھتے۔
موضوعات : نماز کا طریقہ