اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! یقینا میں تم سب کے مقابلے میں رسول اللہ ﷺ کی نما…
صحيحفہرست مضامین :
27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن أَبي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه: أنه كَانَ يُكَبِّرُ فِي كُلِّ صَلَاةٍ مِنَ الْمَكْتُوبَةِ وَغَيْرِهَا، فِي رَمَضَانَ وَغَيْرِهِ، فَيُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْكَعُ، ثُمَّ يَقُولُ: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، ثُمَّ يَقُولُ: رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، قَبْلَ أَنْ يَسْجُدَ، ثُمَّ يَقُولُ: اللهُ أَكْبَرُ حِينَ يَهْوِي سَاجِدًا، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَسْجُدُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ مِنَ الْجُلُوسِ فِي الِاثْنَتَيْنِ، وَيَفْعَلُ ذَلِكَ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ، حَتَّى يَفْرُغَ مِنَ الصَّلَاةِ، ثُمَّ يَقُولُ حِينَ يَنْصَرِفُ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنِّي لَأَقْرَبُكُمْ شَبَهًا بِصَلَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنْ كَانَتْ هَذِهِ لَصَلَاتَهُ حَتَّى فَارَقَ الدُّنْيَا.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی نماز کے طریقے کا ایک حصہ روایت کرتے ہوئے بتا رہے ہیں کہ جب آپ نماز کے لیے کھڑے ہوتے، تو کھڑے ہوتے وقت تکبیر احرام کہتے، پھر رکوع میں جاتے وقت، سجدہ کرتے وقت، سجدے سے سر اٹھاتے وقت، دوسرے سجدے میں جاتے وقت، دوسرے سجدے سے سر اٹھاتے وقت اور تین یا چار رکعت والی نمازوں میں پہلے تشہد میں بیٹھنے کے بعد پہلی دو رکعتوں سے کھڑے ہوتے وقت اللہ اکبر کہتے اور پھر آخر تک پوری نماز میں ایسا ہی کرتے۔ جب کہ رکوع سے سر اٹھاتے وقت "سمع الله لمن حمده" کہتے اور اس کے بعد کھڑے ہوکر "ربنا لك الحمد" کہتے۔
پھر ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نماز پوری کرنے کے بعد کہتے : اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں تم میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے سب سے زیادہ ملتی جلتی نماز پڑھنے والا شخص ہوں۔ آپ دنیا سے رخصت ہونے تک ایسے ہی نماز پڑھتے رہے۔
موضوعات : نماز کا طریقہ