اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > میری یہ خمیصہ (چادر) ابوجہم کے پاس لے جاؤ اور ان کی انبجانیہ (سادی چادر) لے آؤ، کیونکہ اس …
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن عائشة رضي الله عنها أن النبي صلى الله عليه وسلم صلَّى في خَمِيصَةٍ لها أعْلَام، فَنَظَر إلى أَعْلاَمِهَا نَظْرَةً، فلمَّا انْصَرف قال: «اذهبوا بِخَمِيصَتِي هذه إلى أبي جَهْم وَأْتُونِي بِأَنْبِجَانِيَّةِ أبي جَهْم؛ فإنها أَلْهَتْنِي آنِفًا عن صَلاتي»
وفي رواية: «كنت أنظر إلى عَلَمِها، وأنا في الصلاة؛ فأخاف أن تَفْتِنَنِي».
ابو جہم نے آپ ﷺ کو ایک چادر ہدیہ کی تھی، اس میں مختلف رنگ اور نقوش تھے، آپ کے اچھے اخلاق میں سے یہ ہے کہ آپ ہدیہ دینے والے کی خوشى كے خاطر ہدیہ قبول کیا کرتے تھے۔ آپ ﷺ نے اسے قبول کرکے اس میں نماز پڑھی، لیکن رنگدار اور نقش و نگار والی ہونے کی وجہ سے نماز میں اُس پر آپ ﷺ کی نظر پڑتی تھی جس نے آپ ﷺ کو نماز کی طرف کامل توجہ (مکمل انہماک) سے غافل کردیا۔اسی لیے آپ ﷺ نے حکم دیا کہ اس نقش ونگار والی چادر کو ہدیہ کرنے والے یعنی ابو جہم کو واپس لوٹا دیا جائے۔
ہدیہ واپس کرنے کی وجہ سے ابوجہم کے دل میں کچھ نہ آنے اور ان کے اطمینانِ قلب کی خاطر یہ حکم دیا کہ ابوجہم کی دوسری چادر لے آؤ جس میں مختلف رنگ اور نقش و نگار نہ ہوں۔
موضوعات : نماز کی سنتیں