نماز کے شرائط پر احادیث

اسلام > Ur > حدیث > نماز کے شرائط

«نماز کے شرائط» پر 28 نبوی احادیث وضاحت کے ساتھ: عربی متن، ترجمہ، وضاحت اور سبق، درجہ استناد اور حوالوں کے ساتھ۔

27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا

نماز کے شرائط پر احادیث کی فہرست

صحیح جبریل آئے اور انہوں نے میری امامت کرائی۔ میں نے اُن کے ساتھ نماز پڑھی، پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی، پ صحیح ظہر کا وقت سورج کے ڈھل جانے سے آدمی کا سایہ اس کے قد کے برابر ہو جانے تک (یعنی) عصر کا وقت داخل ہونے تک رہتا ہے۔ عصر کا وقت سورج زرد ہونے تک، مغر ب کا صحیح ہم مغرب کی نماز نبی ﷺ کے ساتھ ادا کرتے اور جب ہم میں سے کوئی واپس پلٹتا تو (ابھی اتنا اجالا باقی ہوتا کہ) وہ اپنے تیر کے گرنے کی جگہ دیکھ سکتا تھا۔ صحیح یہی (عشا کی نماز کا پسندیدہ) وقت ہے، اگر میں اپنی امت پر گراں نہ سمجھتا صحیح فجر کے ساتھ صبح کرو کیوں کہ یہ تمہارے اجر کے لیے بہت عظیم ہے۔ یا اجر کے اعتبار سے بہت عظیم ہے۔ صحیح جس نے طلوعِ آفتاب سے پہلے فجر کی ایک رکعت پا لی تو اس نے نمازِ فجر پا لی اور جس نے غروبِ آفتاب سے پہلے عصر کی ایک رکعت پا لی تو گویا اس نے عصر کی نماز صحیح فجر دو طرح کی ہوتی ہے: ایک وہ جو بھیڑیے کی دم کی طرح (اوپر اٹھی) ہوتی ہے۔ اس میں نماز (فجر) پڑھنا جائز نہیں اور کھانا (سحری) کھانا حرام نہیں۔ دوسری وہ صحیح اللہ بالغ عورت کی نماز بغیر دوپٹے کے قبول نہیں کرتا۔ صحیح جب کپڑا کشادہ ہو تو اس کے دونوں کناروں کو ایک دوسرے کے مخالف کندھوں پر ڈال لو اور جب کپڑا تنگ ہو تو اسے اپنی کمر پر باندھ لو> حَسَنْ ہم ایک تاریک رات میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سفر میں تھےتو ہمیں پتہ نہیں چل سکا کہ قبلہ کس طرف ہے۔ چنانچہ ہم میں سے ہر شخص نے اپنی سمت کی طرف رخ کر کے نما صحیح مشرق ومغرب کے مابین جو کچھ ہے سب قبلہ ہے۔ صحیح رسول اللہ ﷺ اپنی سواری پر نماز پڑھتے تھے، وہ جس طرف بھی آپ کو لیے پھرتی۔ لیکن جب فرض (نماز پڑھنے) کا ارادہ کرتے تو سواری سے اتر پڑتے اور قبلہ کی طرف صحیح رسول اللہ ﷺ جب سفر پر جاتے اور آپ کا نفل نماز پڑھنے کا ارادہ ہوتا تو آپ ﷺ سواری کا رخ قبلے کی طرف کر کے تکبیر کہتے اور نماز شروع کردیتے (بعد میں) چاہے صحیح زمین ساری کی ساری سجدہ گاہ ہے، سوائے قبرستان اور غسل خانے کے۔ صحيح قبروں پر مت بیٹھو اور ان کی جانب منہ کرکے نماز نہ پڑھو۔ صحیح جب تم میں سے کوئی مسجد آئے، تو دیکھ لیا کرے، اگر اسے اپنے جوتوں میں کوئی گندگی یا ناپاکی نظر آئے، تو اسے رگڑ کرصاف کر لے اور ان میں نماز پڑھ لے۔ صحیح جب شام کا کھانا حاضر ہو جائے تو مغرب کی نماز سے پہلے کھانا کھا لو اور اپنا کھانا چھوڑ کر نماز کی طرف جلدی مت کرو۔ صحیح لوگ مسجد قباء میں صبح کی نماز پڑھ رہے تھے کہ ایک آنے والا ان کے پاس آیا، اور اس نے کہا کہ آج کی رات نبی ﷺ پر قرآن نازل کیا گیا ہے اور آپ کو حکم دیا گی صحیح رسول اللہ ﷺ، اسامہ بن زید، بلال اور عثمان بن ابی طلحہ رضی اللہ عنہم خانۂ کعبہ کے اندر داخل ہوئے۔ صحیح یا رسول اللہ! سورج غروب ہوگیا اور نماز عصر پڑھنا میرے لیے ممکن نہ ہوسکا۔ اس پر نبی ﷺ نے فرمایا:اللہ کی قسم! نماز میں نے بھی نہیں پڑھی ہے۔ جابر بن عبد صحیح نبی ﷺ ظہر کی نماز ٹھیک دوپہر میں پڑھا کرتے، عصر کی نماز اس وقت ادا فرماتے جب کہ سورج ابھی صاف اور روشن ہوتا اور نماز مغرب وقت ہوتے ہی پڑھ لیتے۔ صحیح نبی ﷺ نے (ایک دن) عشا کی نماز میں تاخیر فرما دی۔ اس پر عمر رضی اللہ عنہ نکلے اور کہنے لگے: یا رسول اللہ! نماز پڑھانے کے لیے تشریف لائیے۔ عورتیں اور بچ صحیح رسول اللہ ﷺ فجر کی نماز پڑھتے تھے تو مومن عورتیں بڑی بڑی چادروں میں لپٹیں آپ ﷺ کے ساتھ نماز میں شریک ہوتیں۔ پھر (نماز سے فارغ ہونے کے بعد) وہ اپنے گھر صحیح میں رسول اللہ ﷺ کے سامنے لیٹی ہوتی تھی اور میرے پاؤں آپ ﷺ کے قبلے کی جانب ہوتے تھے۔ آپ ﷺ جب سجدہ کرتے تو میرے پاؤں کو دبا دیتے اور میں انہیں سمیٹ لیتی صحیح میں اور میرے والد دونوں ابو بَرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، تو میرے والد نے ان سے پوچھا کہ نبی ﷺ فرض نماز کیسے (یعنی کب) پڑھتے تھے؟ صحیح تم میں سے کوئی شخص ایک کپڑے میں اس حال میں نماز نہ پڑھے کہ اس کے دونوں کندھوں پر کچھ بھی کپڑا نہ ہو
بسم الله الرحمن الرحيم منگل 15 جمادی الاول
الثلاثاء 15 جمادى الأولى
بدر پورا چاند دن 16.6 / 29.5
روشنی 96%
نیا چاند 13 دنوں میں
الحمد لله اللہ کی حمد

إِنَّ ٱللَّهَ وَمَلَٰٓئِكَتَهُۥ يُصَلُّونَ عَلَى ٱلنَّبِىِّ ۚ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ صَلُّوا۟ عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا۟ تَسْلِيمًا

خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں۔ مومنو تم بھی ان پر دُرود اور سلام بھیجا کرو

Al-Ahzab 33:56

نبی پر درود