اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > جبریل آئے اور انہوں نے میری امامت کرائی۔ میں نے اُن کے ساتھ نماز پڑھی، پھر ان کے ساتھ نماز…
صحیحفہرست مضامین :
27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 2 منٹ مطالعہعن ابن شِهاب أنَّ عُمر بن عبد العزيز أخَّرَ العصرَ شيئًا، فقال له عُروة: أمَا إنَّ جبريلَ قد نزل فصلَّى إمامَ رسول الله صلى الله عليه وسلم ، فقال عمرُ: اعلمْ ما تقولُ يا عُروة قال: سمعتُ بَشِير بن أبي مسعود يقول: سمعتُ أبا مسعود يقول: سمعتُ رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «نَزَل جبريلُ فأمَّني، فصلَّيتُ معه، ثم صَلَّيتُ معه، ثم صَلَّيتُ معه، ثم صَلَّيتُ معه، ثم صَلَّيتُ معه» يحسِبُ بأصابعِه خمسَ صَلَواتٍ.
جبریل علیہ السلام وحی لے کر نبی ﷺ کے پاس آتے تھے اور مختلف شکل وصورت میں آتے تھے۔ اِس حدیث میں ہے کہ وہ اترے اور آپ ﷺ کو پانچ وقتوں کی امامت کرائی تاکہ آپ ﷺ کو نمازوں کے اوقات بتائیں۔ سیاقِ حدیث میں جو قصہ وارد ہوا ہے وہ یہ ہے:
ایک مرتبہ عمر بن عبد العزیز نے عصر کی نماز کو اس کے وقت سے تھوڑا مؤخر کر دیا تو اس پر عروہ بن زبیر نے ان پر اعتراض کیا اور انھیں بتایا کہ ایک مرتبہ جبریل علیہ السلام آئے اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی امامت کرائی، اس پر عمر بن عبد العزیز کو تعجب ہوا اور انھوں نے عروہ کو حکم دیا کہ وہ اپنی کہی ہوئی بات پر غور کریں اور سوچ سمجھ کر کہیں اور وہ بات نہ کہیں جس کی دلیل نہ ہو، تو عروہ نے بتایا کہ انھوں نے بشیر بن ابو مسعود سے سنا ہے وہ ابو مسعود بدری رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے آپ ﷺ نے بتایا کہ ایک مرتبہ جبریل نازل ہوئے اور پانچوں نمازوں کے اوقات میں آپ ﷺ کی امامت کرائی۔ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ عروہ نے اس حدیث کو سنا اور نماز کی کیفیت اور اس کے اوقات وارکان کو جانا۔
موضوعات : نماز کے شرائط