اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > اللہ بالغ عورت کی نماز بغیر دوپٹے کے قبول نہیں کرتا۔
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن عائشة رضي الله عنها عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: «لا يَقْبَل الله صلاة حَائض إلا بِخِمَار».
بالغ و عاقل عورت کے لیےجائز نہیں ہےکہ وہ بغیر دوپٹے کے نماز پڑھے،یعنی اپنے سر اور گردن کو کھول کر نماز پڑھے۔ اگر اس نے اس حالت میں نماز پڑھ لی،تو اسکی یہ نماز باطل ہوگی۔ کیوںکہ آپ ﷺ کافرمان ہے: ”اللہ تعالی قبول نہیں فرماتے“ یہاں نفی قبول سے مراد نماز کی صحت اور اس کی ادائیگی کی نفی ہے۔
اس حدیث میں ”الحائض“ سے مراد وہ بالغ عورت ہے، جو سن حیض کو پہنچ چکی ہو اور اس میں بلوغت کی کوئی بھی علامت ظاہر ہو چکی ہو، یعنی حیض یا منی آ چکی ہو، اس کے زیر ناف بال اگ آئیں ہوں یا وہ پندرہ سال کی ہو گئی ہو۔ آپ ﷺ نے بلوغت کو حیض سے تعبیر کیا؛ کیوں کہ یہ عورتوں کے ساتھ خاص ہے اور عموما یہی (پہلے) ہوتا ہے، تاہم یہاں یہ ہر گز مقصود نہیں کہ وہ عورت حیض میں ہو؛ کیوں کہ حالت حیض میں تو عورت کو نماز پڑھنے سے منع کیا گیا ہے، جس کا ثبوت حدیث میں ہے اور علما کا اس پر اجماع ہے۔
موضوعات : نماز کے شرائط