اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > میں رسول اللہ ﷺ کے سامنے لیٹی ہوتی تھی اور میرے پاؤں آپ ﷺ کے قبلے کی جانب ہوتے تھے۔ آپ ﷺ ج…
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن عائشة رضي الله عنها قالت: «كنت أنام بين يَدَيْ رسول الله صلى الله عليه وسلم ورِجْلايَ فِي قِبْلَتِهِ، فإذا سجد غَمَزَنِي، فقَبَضتُ رِجْلَيَّ، فإذا قام بَسَطْتُهُمَا، والبيوت يومئذ ليس فيها مصابيح».
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے سامنے سو جاتی اور آپ ﷺ تہجد کی نماز پڑھ رہے ہوتے تھے۔ ہمارے گھروں کے تنگ ہونے کی وجہ سے میرے پاؤں آپ ﷺ اور آپ ﷺ کے سجدے کے جگہ کے مابین آپ ﷺ کے قبلے کی جانب ہوتے تھے۔ جب تک آپ ﷺ نماز تہجد میں کھڑے رہتے میں پاؤں کو پھیلائے رکھتی اور جب آپ ﷺ سجدہ فرماتے تو مجھے دبا دیتے اور میں انہیں سمیٹ لیتی تاکہ آپ ﷺ سجدہ کر سکیں۔
اگر میں آپ ﷺ کو دیکھ سکتی کہ آپ ﷺ سجدہ کرنے والے ہیں تو بلا دبائے ہی میں پاؤں کو سمیٹ لیتی لیکن ہمارے گھروں میں چراغ نہیں ہوا کرتے تھے کہ جن کی روشنی میں وہ نبی ﷺ کو دیکھ کر اپنے پاؤں کو سمیٹ لیتیں بغیر اس کے کہ آپ ﷺ کو انہیں دبانے کی ضرورت پڑتی۔
موضوعات : نماز کے شرائط