اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > ایک کنواری لڑکی نبی ﷺ کے پاس آئی اور اس نے یہ بیان کیا کہ اس کے باپ نے اس کا نکاح کردیا ہے…
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن ابن عباس، أن جَاريةً بِكْراً أتَتِ النبي صلى الله عليه وسلم فذكرت «أنَّ أباها زَوَّجَها وهي كارهة، فَخَيَّرَهَا النبي صلى الله عليه وسلم ».
یہ حدیث اس بات کا فائدہ دیتی ہے کہ ایک نوجوان کم سن دوشیزہ جس کی بکارت ابھی کسی نکاحِ سابق سے زائل نہیں ہوئی تھی، نبی ﷺ کے پاس آئی اور بیان کیا کہ اس کے باپ نے اس کی شادی اس کی رضامندی واجازت کے بغیر کسی شخص سے کرنے کا ارادہ کیا ہے، تو نبی ﷺ نے اسے اس بات کا اختیار دیا کہ وہ اپنے باپ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اس شوہر کے عقد میں رہے یا اس نکاح کو فسخ کرتے ہوئے اس کو رد کردے، کیوں کہ شریعت میں اس (لڑکی) کی اجازت کا اعتبار کیا گیا ہے، لہذا ولی اس کی اجازت اور رضامندی کے بغیر اس کی شادی نہیں کراسکتا۔ اور اگر وہ باکرہ ہو اور عقل مند و بالغہ ہو تو اسے ولی کی بات ماننے یا انکار کرنے کا حق حاصل ہے۔
باکرہ اور بالغہ لڑکی کی رائے کے اعتبار کرنے اور اسے مجبور نہ کرنے کے قول کو سعودی عرب کی مستقل کمیٹی برائے افتاء نے اختیار کیا ہے۔
موضوعات : نکاح