ہرج (فتنوں) کے زمانے میں عبادت کرنا ایسے ہے، جیسے میری طرف ہجرت کرنا۔

اسلام > Ur > حدیث > فضائل و آداب > ہرج (فتنوں) کے زمانے میں عبادت کرنا ایسے ہے، جیسے میری طرف ہجرت کرنا۔

حدیث کے راوی: اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

صحیح

27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا

📖 1 منٹ مطالعہ

حدیث کا متن: ہرج (فتنوں) کے زمانے میں عبادت کرنا ایسے ہے، جیسے میری…

عن معقل بن يسار رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «العِبَادَة في الهَرْجِ كَهِجْرَةٍ إليَّ».

حدیث کی وضاحت: ہرج (فتنوں) کے زمانے میں عبادت کرنا ایسے ہے، جیسے میری…

حدیث کا مفہوم: فتنوں کی کثرت کے دور میں اور اس وقت میں جب معاملات گڈ مڈ ہوجائیں اور لڑائی جھگڑا ہو رہا ہو، عبادت کی پابندی کرنے والے شخص کی فضیلت ایسے ہے جیسے اس شخص کی فضیلت جس نے فتح مکہ سے پہلے نبی ﷺ کی طرف ہجرت کی۔کیونکہ اس کا عمل اسی کی طرح ہوتا ہے بایں طور کہ مہاجر شخص اپنے دین کو اس شخص سے بچاتے ہوئے بھاگ اٹھتا ہے جو اسے دین سے روکتا ہے تاکہ وہ نبی ﷺ کو تھام لے۔ اسی طرح اللہ کی عبادت میں مشغول رہنے والا لوگوں سے کنارہ کش ہو کر اپنے رب کی عبادت کی آغوش میں پناہ لیتا ہے۔ ایسا شخص درحقیقت اللہ کی ساری مخلوق سے راہ فرار اختیار کر کے اللہ کی طرف ہجرت کر جاتا ہے۔

موضوعات : نیک اعمال کے فضائل

بسم الله الرحمن الرحيم منگل 15 جمادی الاول
الثلاثاء 15 جمادى الأولى
بدر پورا چاند دن 16.6 / 29.5
روشنی 96%
نیا چاند 13 دنوں میں
الحمد لله اللہ کی حمد

إِنَّ ٱللَّهَ وَمَلَٰٓئِكَتَهُۥ يُصَلُّونَ عَلَى ٱلنَّبِىِّ ۚ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ صَلُّوا۟ عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا۟ تَسْلِيمًا

خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں۔ مومنو تم بھی ان پر دُرود اور سلام بھیجا کرو

Al-Ahzab 33:56

نبی پر درود