اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی خالہ ام حفید نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پنیر، گھی اور…
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن ابن عباس رضي الله عنهما قال: «أَهْدَتْ أُمُّ حُفَيْدٍ خَالَةُ ابْنِ عباس إلى النبي صلى الله عليه وسلم أَقِطًا وَسَمْنًا وَأَضُبًّا، فأَكَل النبي صلى الله عليه وسلم من الأَقِطِ وَالسَّمْنِ، وَتَرَكَ الضَّبَّ تَقَذُّرًا»، قال ابن عباس: «فَأُكِلَ على مائدة رسول الله صلى الله عليه وسلم ، ولو كان حراما ما أُكِلَ على مائدة رسول الله صلى الله عليه وسلم ».
اس حدیث میں عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کر رہے ہیں کہ ان کی خالہ ام حفید نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پنیر، گھی اور سانڈے ہدیہ کیا، تو آپ نے پنیر اور گھی میں سے کھایا اور سانڈے کو چھوڑ دیا؛ کیونکہ آپ کو اس سے گھن محسوس ہوتی تھی۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ اس سے طبعی طور پر کراہت محسوس کرتے تھے، دینی طور پر نہیں۔ خود آپ نے اسے نہ کھانے کا سبب یہ بیان کیا ہے، جیسا کہ اس حدیث کی دوسری روایتوں میں آیا ہے کہ وہ آپ کی قوم کی سر زمین میں نہیں ہوتا ہے۔ آپ کا یہ سبب بیان کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ اسے کھانے سے گريز دینی وجہ سے نہیں کیا، بلکہ طبعی تنفر کی وجہ سے کیا۔ پھر عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے سانڈہ کے مباح ہونے کی دلیل اس بات سے لی ہے کہ اسے آپ کے دسترخوان پر کھایا گیا، کیونکہ اگر وہ حرام ہوتا، تو آپ اس بات کو گوارہ نہیں کرتے کہ اسے آپ کے دسترخوان پر کھایا جائے۔
موضوعات : کون سے جانور اور پرندے حلال ہیں اور کون سے حرام ہیں۔