اسلام > Ur > حدیث > فضائل و آداب > رسول اللہ ﷺ نے پانی میں پھونک مارنے سے منع فرمایا۔
صحیحفہرست مضامین :
27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم نهى عنِ النَّفْخ في الشّراب، فقال رجل: القَذَاة أَرَاهَا في الإناء؟ فقال: «أَهْرِقْهَا». قال: إِنِّي لا أَرْوى من نَفَس واحد؟ قال: «فَأَبِنِ القدح إذًا عن فِيك».
نبی ﷺ نے پانی میں پھونک مارنے سے منع فرمایا۔ ایک آدمی نے آپ ﷺ سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ! بعض اوقات پانی میں کوئی تنکا ہوتا ہے اور اسے نکالنےکے لیے انسان پھونک مارتا ہے، اس کا کیا حکم ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: جس پانی میں تنکا وغیرہ ہو، اس میں پھونک نہ مارو؛ بلکہ اسے انڈیل دو۔ اس شخص نے مزید پوچھا کہ وہ اگر ایک سانس میں سیراب نہیں ہوتا، تو پھر کیا کرے؟ اس پر نبی ﷺ نے اس سے فرمایا کہ وہ برتن کو اپنے منہ سے ہٹا کر سانس لے اور پھر دوبارہ پی لے۔
موضوعات : کھانے پینے کے آداب