اسلام > Ur > حدیث > فضائل و آداب > اس اونٹنی پر جو کچھ ہے اسے لے لو اور اسے چھوڑ دو، کیونکہ وہ لعنت زدہ ہے۔
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن عمران بن الحصين رضي الله عنهما ، قال: بينما رسولُ الله صلى الله عليه وسلم في بعض أَسْفَارِه، وامرأة من الأنصار على ناقة، فضَجِرَتْ فلَعَنَتْهَا، فسمع ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: «خُذُوا ما عليها ودَعُوهَا؛ فإنها مَلْعُونَةٌ»، قال عمران: فكَأَنِّي أراها الآن تمشي في الناس ما يَعْرِضُ لها أحد".
عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بيان کر تے ہيں کہ انصار کی ایک عورت اپنی اونٹنی پر سوار تھی تو وہ عورت اس اونٹنی کی وجہ سے تھک گئی اور اکتا گئی۔ چنانچہ اس عورت نے کہا کہ تجھ پر اللہ کی لعنت ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے سن لیا تو آپ ﷺ نے حکم ديا کہ اس اونٹنی پر جو کجاوہ اور سامان ہےاسے لے ليا جائے، پھر اسے چھوڑ ديا جائے، کیونکہ اس پر لعنت بھیجی گئی ہے۔ عمران رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اس اونٹنی کو ديکھا کہ وہ لوگوں کے درمیان چل رہی ہے اور کوئی آدمی اس سے تعرض نہیں کر رہا ہے، کيونکہ نبی ﷺ نے حکم دے ديا تھا کہ اسے چھوڑ ديا جائے۔