اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > ولاء (میراث) کا حق دار ولی نعمت (آزاد کرانے والا) ہوتا ہے
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 2 منٹ مطالعہعن عائشة رضي الله عنها أنها اشترتْ بَريرَة مِنْ أُناسٍ من الأنصار واشْتَرَطوا الوَلاء، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «الوَلاءُ لِمَنْ وَلِيَ النِّعْمَة»، وخَيَّرَهَا رسول الله صلى الله عليه وسلم وكان زوْجُها عبْدا، وأهدَتْ لعائشة لحْما، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «لو صَنَعْتُم لنا من هذا اللحم»، قالت عائشة: تُصُدِّقَ به على بَرِيرَة، فقال: «هو لها صدَقة ولنا هديَّة».
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے بریرہ کو خرید کر آزاد کر دیا، تو ان کے مالکوں نے ولاء (وراثت) کا حق اپنے لیے چاہا۔ اس پر نبی ﷺ نے بتایا کہ یہ شرط درست نہیں ہے۔ یہ حق غلام آزاد کرانے والے کو حاصل ہے۔ بریرہ مغیث نامی ایک غلام کی بیوی تھیں۔ جب وہ آزاد ہوئیں اور اپنی ذات کی مالک ہو گئیں، تو نبی ﷺ نے انھیں اپنے شوہر کے ساتھ رہنے یا ان سے جدا ہو جانے کی اجازت مرحمت فرمادی؛ کیوں کہ وہ آزادی کی وجہ سے شوہر کی بہ نسبت اعلیٰ مرتبہ پر فائز ہو چکی تھیں۔ پھر انھیں گوشت کا ہدیہ دیا گیا، تو اس میں سے کچھ انھوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا، جس میں سے نبی ﷺ نے بھی کھانے کا ارادہ کیا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ وہ صدقہ ہے، جو بریرہ کو دیا گیا تھا اور آپ ﷺ صدقہ نہیں کھاتے تھے۔ لیکن آپ ﷺ نے بتایا کہ بریرہ صدقے کی راہ سے اس کی مالک ہوچکی ہیں اور اس نے اسے ہدیے کے طور پر نبی ﷺ کی طرف منتقل کیا ہے؛ اس لیے اس کا حکم بدل گیا اور وہ ہدیہ اور تحفہ ہو گیا؛ بنا بریں وہ آپ پر اور آپ کے اہل بیت پر حرام نہیں ہے۔
موضوعات : ہبہ اور عطیہ · غلامی وآزادی