”آدمی نے اپنے پیٹ سے بدتر کوئی برتن نہیں بھرا۔ انسان کے لیے بس چند لقمے کافی ہیں جو اس کی…

اسلام > Ur > حدیث > فضائل و آداب > ”آدمی نے اپنے پیٹ سے بدتر کوئی برتن نہیں بھرا۔ انسان کے لیے بس چند لقمے کافی ہیں جو اس کی…

حدیث کے راوی: اسے امام احمد‘ ترمذی‘ نسائی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے

صحيح

27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا

📖 1 منٹ مطالعہ

حدیث کا متن: ”آدمی نے اپنے پیٹ سے بدتر کوئی برتن نہیں بھرا۔ انسان ک…

عَنْ المِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَا مَلأَ آدَمِيٌّ وِعَاءً شَرًّا مِنْ بَطْنٍ، بِحَسْبِ ابْنِ آدَمَ أَكَلاَتٌ يُقِمْنَ صُلْبَهُ، فَإِنْ كَانَ لَا مَحَالَةَ، فَثُلُثٌ لِطَعَامِهِ، وَثُلُثٌ لِشَرَابِهِ، وَثُلُثٌ لِنَفَسِهِ».

حدیث کی وضاحت: ”آدمی نے اپنے پیٹ سے بدتر کوئی برتن نہیں بھرا۔ انسان ک…

اللہ کے نبی ﷺ ہمیں یہاں طب کا ایک اصول بتا رہے ہیں، جس سے انسان اپنی صحت کی حفاظت کر سکتا ہے۔ یہ اصول ہے کم کھانا کھانا۔ کھانا بس اتنا کھایا جائے کہ انسان زندہ رہے اور ضروری کاموں کے لیے توانائی مل جائے۔ بھرا جانے والا سب سے بدترین برتن دراصل پیٹ ہے کہ پیٹ بھر کر کھانا کھانے کے نتیجے میں بے شمار ظاہر و باطنی بیماریاں جلد یا بدیر سامنے آتی ہیں۔ اس کے بعد اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا کہ اگر انسان کو پیٹ بھر کر کھانا کھانا ہی ہو، تو ایک تہائی حصے کے بہ قدر کھانا کھائے، ایک تہائی حصے کے بہ قدر پانی پیے اور ایک تہائی حصہ سانس لینے کے لیے رکھے، تاکہ پریشانی، نقصان اور دینی و دنیوی فرائض کی ادائیگی میں سستی نہ ہو۔

اسباق: ”آدمی نے اپنے پیٹ سے بدتر کوئی برتن نہیں بھرا۔ انسان ک…

موضوعات : ہوائے نفس اور شہوات کی مذمت

بسم الله الرحمن الرحيم بدھ 16 جمادی الاول
الأربعاء 16 جمادى الأولى
أحدب متناقص گھٹتا ہوا گول چاند دن 16.7 / 29.5
روشنی 96%
نیا چاند 13 دنوں میں
الله أكبر اللہ سب سے بڑا ہے

إِنَّ ٱللَّهَ وَمَلَٰٓئِكَتَهُۥ يُصَلُّونَ عَلَى ٱلنَّبِىِّ ۚ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ صَلُّوا۟ عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا۟ تَسْلِيمًا

خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں۔ مومنو تم بھی ان پر دُرود اور سلام بھیجا کرو

Al-Ahzab 33:56

نبی پر درود