تم اہل کتاب کی تصدیق یا تکذیب نہ کرو، بلکہ یوں کہو کہ: {ہم اللہ پر ایمان لائے اور اس چیز پ…

اسلام > Ur > حدیث > قرآن کریم اور اس کے علوم > تم اہل کتاب کی تصدیق یا تکذیب نہ کرو، بلکہ یوں کہو کہ: {ہم اللہ پر ایمان لائے اور اس چیز پ…

حدیث کے راوی: رواه البخاري

صحيح

27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا

📖 2 منٹ مطالعہ

حدیث کا متن: تم اہل کتاب کی تصدیق یا تکذیب نہ کرو، بلکہ یوں کہو کہ:…

عَنْ ‌أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ أَهْلُ الْكِتَابِ يَقْرَؤُونَ التَّوْرَاةَ بِالْعِبْرَانِيَّةِ، وَيُفَسِّرُونَهَا بِالْعَرَبِيَّةِ لِأَهْلِ الْإِسْلَامِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تُصَدِّقُوا أَهْلَ الْكِتَابِ وَلَا تُكَذِّبُوهُمْ، وَقُولُوا: {آمَنَّا بِاللهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا} [البقرة: 136] الْآيَةَ».

حدیث کی وضاحت: تم اہل کتاب کی تصدیق یا تکذیب نہ کرو، بلکہ یوں کہو کہ:…

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو اس بات سے خبردار کیا ہے کہ وہ اہل کتاب کی ان باتوں سے دھوکہ نہ کھائے، جو وہ اپنی کتابوں کے حوالے سے نقل کرتے ہیں۔ اس لیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں یہود عبرانی زبان میں تورات پڑھا کرتے تھے، جو کہ یہودیوں کی زبان ہے اور پھر عربی میں اس کی تفسیر بیان کرتے تھے۔ چناں چہ اس تعلق سے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہ اہل کتاب کی تصدیق کرو اور نہ انہیں جھٹلاؤ۔ دراصل یہ رہنمائی ان معاملات کے تعلق سے ہے، جن میں جھوٹ سچ کا علم نہ ہو۔ اس لیے کہ اللہ تعالی نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہماری طرف نازل کردہ قرآن اور ان کے اوپر نازل کردہ کتاب پر ہم ایمان لائیں، لیکن ہمارے پاس اس کا کوئی راستہ نہیں کہ ہم ان کتابوں کے حوالے سے وہ جو باتیں نقل کرتے ہیں، ان کی صحت و ضعف کی جانکاری حاصل کر سکیں، اگر ہماری شریعت میں اس کی تصدیق وارد نہ ہوئی ہو۔ ایسے میں ہمیں توقف اختیار کرنا ہے۔ چنانچہ ہم ان کی تصدیق نہ کریں، تاکہ انہوں نے اس کتاب میں جو تحریف کی ہے، اس میں ہم ان کے شریک نہ ٹھہریں اور نہ ہم ان کی تکذیب کریں کہ ممکن ہے کہ وہ صحیح ہو اور ہم اس بات کا انکار کر بیٹھیں، جس پر ہمیں ایمان لانے کا حکم دیا گیا ہے۔ ہمیں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہنے کا حکم دیا: {ہم اللہ تعالیٰ پر اور جو کچھ ہم پر اتارا گیا ہے اور جو کچھ ابراہیم (علیہ السلام) اور اسماعیل (علیہ السلام) اور یعقوب (علیہ السلام) اور ان کی اوﻻد پر اتارا گیا اور جو کچھ موسیٰ وعیسیٰ (علیہما السلام) اور دوسرے انبیا (علیہم السلام) اللہ تعالیٰ کی طرف سے دیئے گئے، ان سب پر ایمان ﻻئے۔ ہم ان میں سے کسی کے درمیان فرق نہیں کرتے اور ہم اللہ تعالیٰ کے فرماں بردار ہیں} [البقرة: 136].

اسباق: تم اہل کتاب کی تصدیق یا تکذیب نہ کرو، بلکہ یوں کہو کہ:…

موضوعات : Rules and Principles of Exegesis · Pre-Islamic Scriptures

بسم الله الرحمن الرحيم منگل 15 جمادی الاول
الثلاثاء 15 جمادى الأولى
بدر پورا چاند دن 16.5 / 29.5
روشنی 97%
نیا چاند 13 دنوں میں
أستغفر الله میں اللہ سے مغفرت مانگتا ہوں

إِنَّ ٱللَّهَ وَمَلَٰٓئِكَتَهُۥ يُصَلُّونَ عَلَى ٱلنَّبِىِّ ۚ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ صَلُّوا۟ عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا۟ تَسْلِيمًا

خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں۔ مومنو تم بھی ان پر دُرود اور سلام بھیجا کرو

Al-Ahzab 33:56

نبی پر درود