رسول اللہ ﷺ کا دایاں ہاتھ وضو اور کھانا کھانے کے لیے اور بایاں ہاتھ قضائے حاجت اور ان چیزو…

اسلام > Ur > حدیث > سیرت و تاریخ > رسول اللہ ﷺ کا دایاں ہاتھ وضو اور کھانا کھانے کے لیے اور بایاں ہاتھ قضائے حاجت اور ان چیزو…

حدیث کے راوی: اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔

صحیح

27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا

📖 2 منٹ مطالعہ

حدیث کا متن: رسول اللہ ﷺ کا دایاں ہاتھ وضو اور کھانا کھانے کے لیے او…

عن عائشة رضي الله عنها قالت: "كَانَت يَدُ رسُولِ الله -صلَّى الله عليه وسلَّم- اليُمنَى لِطُهُورِهِ وطَعَامِهِ، وكَانَت اليُسْرَى لِخَلاَئِهِ، ومَا كَانَ مِنْ أَذَى".
عن حفصة رضي الله عنها "أَنَّ رَسُولَ الله -صلَّى الله عليه وسلَّم- كَانَ يَجْعَلُ يَمِينَهُ لِطَعَامِهِ وَشَرَابِهِ وَثِيَابِهِ، وَيَجْعَلُ يَسَارَهُ لِمَا سِوَى ذَلِك".

حدیث کی وضاحت: رسول اللہ ﷺ کا دایاں ہاتھ وضو اور کھانا کھانے کے لیے او…

ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے وضاحت کی کہ نبی ﷺ کن کاموں میں اپنا دایاں ہاتھ استعمال کرتے تھے اور کن میں بایاں ہاتھ استعمال کیا کرتے تھے۔ کہا جن کاموں میں گندگی ہوتی جیسے استنجاء کرنا، استنجاء میں پتھر کا استعمال، ناک میں پانی ڈالنا اور ناک کو صاف کرنا جیسے کاموں میں جن میں گندگی ہوتی آپ ﷺ بایاں ہاتھ استعمال کیا کرتے تھے۔ اور ان کے علاوہ کاموں میں دایاں ہاتھ استعمال کرتے تھے۔ اس میں دائیں ہاتھ کی تکریم ہے کیونکہ دایاں ہاتھ بائیں سے افضل ہے۔

اس حدیث کی رو سے ان تمام کاموں میں دایاں ہاتھ استعمال کرنا مستحب ہے جو قابلِ تکریم ہوں۔

”لِطُهُورِهِ “ اس کا معنی یہ ہے کہ جب نبی ﷺ طہارت حاصل کرتے تو آپ ﷺ دائیں ہاتھ سے آغاز کرتے۔ چنانچہ آپ ﷺ دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ سے پہلے دھوتے تھے اور اسی طرح آپ ﷺ دائیں پاؤں کو بائیں پاؤں سے پہلے دھویا کرتے تھے۔ جب کہ دونوں کان ایک ہی عضو شمار ہوتے ہیں جو سر کا حصہ ہیں۔ چنانچہ ان کو اکھٹے ہی مسح کیا جائے گا بجز اس کے کہ ایک ہاتھ سے مسح کرنا ہو۔ اس صورت میں ضرورت کے تحت دائیں کان سے مسح کا آغاز کیا جائے گا۔

”وطَعَامِهِ“ یعنی جب آپ ﷺ کھانا کھایا کرتے تھے۔

”وَكَانَت اليُسْرَى لِخَلاَئِهِ “یعنی قضائے حاجت کے وقت استنجاء کرنے، پتھر اٹھانے اور گندگی کے ازالے کے لیے بائیں کو استعمال کرتے تھے۔

”ومَا كَانَ مِنْ أَذَى“جیسے تھوک اور بلغم وغیرہ کو دور کرنے کے لیے۔چیچڑی وغیرہ کو دور کرنا بھی اسی میں آتا ہے۔

حفصہ رضی اللہ عنہا کی حدیث دراصل عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی حدیث کی تصدیق کر رہی ہے جس میں اس بات کا بیان ہے کہ جو کام قابلِ تکریم ہوتے ان میں آپ ﷺ کا طریقہ کار دائیں ہاتھ کو استعمال کرنا تھا اور جن کاموں میں گندگی کا عمل دخل ہوتا تھا ان کاموں میں آپ ﷺ بایاں ہاتھ استعمال فرماتے تھے جیسے استنجاء کرتے ہوئے یا استنجاء کے لیے پتھر اٹھاتے ہوئے وغیرہ۔

موضوعات : آپ ﷺ کا کھانا پینا · نبوی طریقہ

بسم الله الرحمن الرحيم بدھ 16 جمادی الاول
الأربعاء 16 جمادى الأولى
أحدب متناقص گھٹتا ہوا گول چاند دن 16.6 / 29.5
روشنی 96%
نیا چاند 13 دنوں میں
سبحان الله وبحمده اللہ کی تسبیح اور حمد

إِنَّ ٱللَّهَ وَمَلَٰٓئِكَتَهُۥ يُصَلُّونَ عَلَى ٱلنَّبِىِّ ۚ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ صَلُّوا۟ عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا۟ تَسْلِيمًا

خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں۔ مومنو تم بھی ان پر دُرود اور سلام بھیجا کرو

Al-Ahzab 33:56

نبی پر درود