اسلام > Ur > حدیث > فضائل و آداب > میری چادر مجھے دے دو، اگر میرے پاس درخت کے کانٹوں جتنے بھی اونٹ بکریاں ہوتیں تو میں ان سب …
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن جبير بن مطعم رضي الله عنه قال: بينما هو يسير مع النبي صلى الله عليه وسلم مَقْفَلَه من حُنَيْن، فَعَلِقَهُ الأعراب يسألونه، حتى اضطروه إلى سَمُرَة، فَخَطِفَت رداءه، فوقف النبي صلى الله عليه وسلم فقال: «أعطوني ردائي، فلو كان لي عدد هذه العِضَاهِ نَعَمًا، لقسمته بينكم، ثم لا تجدوني بخيلًا ولا كذابًا ولا جبانًا».
رسول اللہ ﷺ جب غزوۂ حنین سے واپس آ رہے تھے اور یہ مکہ اور طائف کے درمیان ایک وادی ہے۔ آپ ﷺ کے ساتھ جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ کچھ لوگ رسو ل اللہﷺ سے لپٹ گیے اور آپ سے مال غنیمت میں سے مال مانگنے لگے یہاں تک کہ آپ ﷺ کو ایک ببول کے درخت کے پاس پناہ لینے پر مجبور کردیا (ببول دیہاتوں میں ایک خاردار درخت ہوتا ہے)۔ آپ ﷺ کی چادر اس کے کانٹوں سے الجھ گئی، اور بدوؤں نے وہ چادر کھینچ لی۔ تو نبی کریمﷺ نے فرمایا: میری چادر مجھے دے دو، اگر میرے پاس درخت کے کانٹوں جتنے بھی (یہ بہت زیادہ خار دار درخت ہوتا ہے) اونٹ ،گائے اور بکریاں ہوتیں تو میں اُن سب کو تم میں تقسیم کردیتا۔ پھرفرمایا کہ: اگر اس وقت مجھے آزماؤ گے تو مجھے تم بخیل، جھوٹا اور بزدل نہیں پاؤگے۔
موضوعات : فضائل و آداب · آپ ﷺ کی گرم گستری