اسلام > Ur > حدیث > قرآن کریم اور اس کے علوم > علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ کا قول کہ میں پہلا آدمی ہوں گا، جو قیامت کے دن رحمن کے سامنے …
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن علي بن أبي طالب رضي الله عنه أنه قال: «أنا أَوَّلُ من يَجْثُو بين يَدَيِ الرحمن للخُصُومة يوم القيامة» وقال قيس بن عباد: وفيهم أُنْزِلَتْ : {هذان خصمان اخْتَصَمُوا في ربهم} [الحج: 19] قال: "هم الذين تَبَارَزُوا يوم بَدْرٍ: حمزة، وعلي، وَعُبَيْدَةُ، أو أبو عبيدة بن الحارث، وَشَيْبَةُ بن رَبِيعَةَ، وعتبة بن رَبِيعَةَ، والوليد بن عُتْبَةُ".
اس اثر سے یہ معلوم ہوا کہ علی رضی اللہ عنہ نے اپنے بارے میں یہ بتایا ہے کہ وہ پہلے شخص ہوں گے، جو قیامت کے دن اللہ رب العالمین کے سامنے جھگڑنے کے لیے گھٹنوں پر بیٹھیں گے۔ ساتھ ہی یہ کہ آیت کریمہ {هذان خصمان اختصموا في ربهم} ان کے نیز حمزہ اور ابو عبیدہ رضی اللہ عنہم کے بارے میں نازل ہوئی تھی، جب وہ غزوۂ بدر کے موقعے پر کفر کے سرغنوں یعنی شیبہ بن ربیعہ، عتبہ بن ربیعہ اور ولید بن عتبہ سے مقابلے کے لیے سامنے آئے تھے۔ یہ اثر مبارزت یعنی معرکہ شروع ہونے سے پہلے دو لوگوں کے بیچ تلوار کی جنگ کے جائز ہونے کی دلیل ہے۔
موضوعات : اخروی زندگی · آپ ﷺ کے غزوات اور سرایا · آیتوں کی تفسیر