آدمی اسی کے ساتھ ہو گا، جس سے وہ محبت کرتا ہے۔

اسلام > Ur > حدیث > فضائل و آداب > آدمی اسی کے ساتھ ہو گا، جس سے وہ محبت کرتا ہے۔

حدیث کے راوی: اس حدیث کی دونوں روایات متفق علیہ ہیں۔

یہ حدیث اپنی دونوں روایات کے اعتبار سے صحیح ہے۔

27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا

📖 2 منٹ مطالعہ

حدیث کا متن: آدمی اسی کے ساتھ ہو گا، جس سے وہ محبت کرتا ہے۔

عن أبي موسى الأشعري رضي الله عنه مرفوعاً: « المَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ ».
وفي رواية: قِيلَ لِلنبي صلى الله عليه وسلم : الرَّجُلُ يُحِبُّ القَوْمَ وَلَمَّا يَلْحَق بهم؟ قال: « المَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ».
عن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه قال: جاء رجل إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: يا رسول الله، كَيفَ تَقُولُ فِي رَجُلٍ أحَبَّ قَومًا ولم يَلحَق بِهم؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «المَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ».

حدیث کی وضاحت: آدمی اسی کے ساتھ ہو گا، جس سے وہ محبت کرتا ہے۔

انسان آخرت میں انہی لوگوں کے ساتھ ہو گا جن سے وہ دنیا میں محبت کرتا ہے۔

مذکورہ حدیث میں انبیاء ورسل اور نیک لوگوں سے بہت زیادہ محبت رکھنے اور حسب مراتب ان کی اتباع کرنے کی ترغیب ہے اور ان کے مخالفین سے محبت کرنے سے ڈرایا گیا ہے۔ اس لیے کہ محبت اس بات کی دلیل ہوتی ہے کہ محبت کرنے والا اپنے محبوب سے کس قدر تعلق رکھتا ہے، کس قدر اس کے اخلاق محبوب کے اخلاق سے مناسبت رکھتے ہیں اور کس حد تک وہ اس کی اقتدا کرتا ہے؟ چنانچہ محبت ان سب باتوں کے وجود کی دلیل ہے اوران پر آمادہ بھی کرتی ہے۔ جو شخص اللہ سے محبت کرتا ہے، اس کی یہ محبت ہی وہ سب سے بڑی چیز ہے، جو اسے اللہ تعالی سے قریب کرتی ہے۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ قدر دان ہے۔ وہ نیکی کرنے والے کو اس کی کاوش سے کہیں بڑھ کر بدلہ دیتاہے۔

واضح رہے کہ محبت کرنے والے کا اس شخص کے ساتھ ہونا، جس سے وہ محبت کرتا ہے، اس بات کا تقاضا نہیں کرتا کہ دونوں مقام ومرتبہ میں بھی برابر ہوں۔ کیوںکہ مراتب تو نیک اعمال اور نفع بخش تجارتوں کے تفاوت کے لحاظ سے مختلف ہوں گے۔ ایسا اس وجہ سے ہے کہ معیت تو کسی بھی چیز پر مجتمع ہونے کی وجہ سے حاصل ہو جاتی ہے، ضروری نہیں کہ اجتماع تمام چیزوں میں ہو۔ چنانچہ جب سب جنت میں چلے جائیں گے، تو اس سے معیت ثابت ہو جائے گی؛ اگرچہ درجات مختلف ہوں گے۔ جس نے رسول اللہ ﷺ سے یا پھر مومنین میں سے کسی سے محبت کی، وہ جنت میں اس کے ساتھ ہو گا؛ بشرطے کہ نیت اچھی رہی ہو؛ کیوں کہ نیت ہی اصل ہے اور عمل اس کے تابع ہے۔ البتہ اس کا ان کے ساتھ ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس کا مقام ومرتبہ بھی وہی ہو، جو ان کا ہے اور نہ ہی یہ لازم آتا ہے کہ اسے ہر اعتبار سے وہی انعامات ملے، جو ان کو ملے ہیں۔

موضوعات : قلبی اعمال کے فضائل · اخلاقِ حمیدہ/ اچھے اخلاق

بسم الله الرحمن الرحيم منگل 15 جمادی الاول
الثلاثاء 15 جمادى الأولى
بدر پورا چاند دن 16.6 / 29.5
روشنی 96%
نیا چاند 13 دنوں میں
سبحان الله وبحمده اللہ کی تسبیح اور حمد

إِنَّ ٱللَّهَ وَمَلَٰٓئِكَتَهُۥ يُصَلُّونَ عَلَى ٱلنَّبِىِّ ۚ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ صَلُّوا۟ عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا۟ تَسْلِيمًا

خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں۔ مومنو تم بھی ان پر دُرود اور سلام بھیجا کرو

Al-Ahzab 33:56

نبی پر درود