اسلام > Ur > حدیث > فضائل و آداب > جب تم میں سے کسی کا خادم اس کے سامنے کھانا حاضر کرے، تو اگر اسے اپنے ساتھ نہیں بیٹھاتا تو …
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «إذا أتى أحدَكم خادمُه بطعامِه، فإنْ لم يُجلِسْه معه، فلْيُناوِلْهُ لُقمةً أو لُقْمَتَيْنِ أو أُكْلَة أو أُكْلَتَين، فإنه وَلِيَ عِلاجَه».
اس حدیث میں بتایا گیا ہے کہ خادم یا غلام جب اپنے آقا کے لیے کھانا تیار کرے، تو مروت اور حسن سلوک کا تقاضا یہ ہے کہ آقا اسے اس کھانے کا کچھ حصہ کھانے کو دے، اسے بالکل محروم نہ رکھے۔ یہ مروت، شرافت اور حسن اخلاق کی بات نہیں ہوگی کہ جس نے اسے محنت سے تیار کرکے حاضر کیا، وہ اسے چکھنے سے رہ جائے۔ اس لیے اس کا دل رکھنے اور خواہش پوری کرنے کی خاطر کـچھ ضرور دینا چاہیے۔
موضوعات : اخلاقِ حمیدہ/ اچھے اخلاق