”آسانی پیدا کرو، مشکل میں نہ ڈالو، خوش خبری دو اور متنفر نہ کرو“۔
اسلام > Ur > حدیث > فضائل و آداب > ”آسانی پیدا کرو، مشکل میں نہ ڈالو، خوش خبری دو اور متنفر نہ کرو“۔
حدیث کے راوی: متفق عليه
صحيح
27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہ
حدیث کا متن: ”آسانی پیدا کرو، مشکل میں نہ ڈالو، خوش خبری دو اور متنف…
عن أنس بن مالك رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «يَسِّرُوا وَلَا تُعَسِّرُوا، وَبَشِّرُوا وَلَا تُنَفِّرُوا».
حدیث کی وضاحت: ”آسانی پیدا کرو، مشکل میں نہ ڈالو، خوش خبری دو اور متنف…
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم دین اور دنیا سے متعلق سبھی معاملوں میں، شرعی دائرے میں رہ کر، لوگوں کا بوجھ ہلکا کرنے، ان کو آسانی دینے اور دشواری نہ ڈالنے کا حکم دیتے تھے۔
ساتھ ہی خیر کی خوش خبری دینے اور لوگوں کو دین سے نفرت نہ دلانے کی ترغیب دیتے تھے۔
اسباق: ”آسانی پیدا کرو، مشکل میں نہ ڈالو، خوش خبری دو اور متنف…
- ایک مؤمن کی ذمے داری ہے کہ وہ لوگوں کو اللہ سے محبت دلائے اور اچھے کام کی ترغیب دے۔
- داعی الی اللہ کو چاہیے کہ وہ لوگوں کو اسلام کی طرف دعوت دینے کے طریقہ کے بارے میں حکمت اپنائے۔
- خوش خبری دینے کے نتیجے میں داعی اور اس کی دعوت کے بارے میں لوگوں کے اندر خوشی، توجہ اور اطمینان کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔
- لوگوں کو دشواری میں ڈالنے سے داعی کی بات سے دوری، شکوک و شبہات اور بے رخی پیدا ہوتی ہے۔
- بندوں پر اللہ کی بڑی رحمت ہے کہ اس نے ان کے لیے ایک کشادگى والے دین اور آسان شریعت کا انتخاب کیا ہے۔
- آسانی سے مراد وہی آسانی ہے، جو شرعی تعلیمات کے عین مطابق ہو۔
موضوعات :
اخلاقِ حمیدہ/ اچھے اخلاق
بسم الله الرحمن الرحيم
بدھ 16 جمادی الاول
الأربعاء 16 جمادى الأولى
سبحان الله وبحمده
اللہ کی تسبیح اور حمد