اسلام > Ur > حدیث > فضائل و آداب > جس نے اپنے دل میں خود کو بڑا جانا اور اِترا اِترا کر چلا وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ و…
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «مَنْ تَعَاظَمَ في نَفْسِهِ، واخْتَال في مِشْيَتِهِ، لَقيَ اللهَ وهُوَ عليهِ غَضْبَانُ».
یہ حدیث تکبر اور بڑائی کی مذمت پر دلالت کرتی ہے۔ یہ تکبر و بڑائی انسان کی چال میں ظاہر ہوتی ہے چنانچہ وہ اتراہٹ کے ساتھ چلتا ہے۔ اسی طرح اس کا اظہار اس کے لباس، گفتگو اور تمام امور میں ہوتا ہے۔ جس شخص کے تکبر کی یہ حالت ہو وہ سمجھتا ہے کہ وہ ایک بڑا آدمی ہے جو دوسروں سے زیادہ تعظیم کا مستحق ہے۔ایسا شخص روز قیامت اس حال میں اللہ سے ملے گا کہ وہ اس پر سخت غضبناک ہوگا۔
موضوعات : اخلاق ذمیمہ/ برے اخلاق