اسلام > Ur > حدیث > فضائل و آداب > ہلاکت ہے اس شخص کے لئے جو گفتگو کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے تاکہ اس کے ذریعے سے لوگوں کو ہنسا…
حَسَنْ27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن معاوية بن حيدة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «ويل للذي يحدث فيكذب؛ ليضحك به القوم، ويل له، ثم ويل له».
اس حدیث میں جھوٹ سے سختی سے ڈرایا گیا ہے اور اس شخص کے لئے ہلاکت کی وعید بیان کی گئی ہے جو از راہِ مزاح اور محض لوگوں کو ہنسانے کے لئے جھوٹ بولتا ہے۔ یہ بہت ہی بری بات ہے اور سختی کے ساتھ حرام ہے۔ یہ برے اخلاق میں سے ہے جس سے مومن کو اپنا دامن بچا کر رکھنا چاہیے اور اس سے دور رہنا چاہیے اور اپنی زبان کو ہر حال میں جھوٹ سے پاک رکھنا چاہیے، ماسوا ان صورتوں کے جن میں شارع کی طرف سے جھوٹ بولنے کی اجازت دی گئی ہے۔
جس طرح از راہِ مذاق جھوٹ بولنا حرام ہے، اسی طرح سننے والوں کے لیے اس کا سننا بھی حرام ہے اگر انھیں اس کے جھوٹ ہونے کا علم ہوجائے، بلکہ ان پر واجب ہوجاتا ہے کہ وہ اس کا انکار کریں۔
موضوعات : فضائل و آداب · اخلاق ذمیمہ/ برے اخلاق · گفتگو اور خاموشی کے آداب