اسلام > Ur > حدیث > فضائل و آداب > جس نے اپنے بھائی کو ایک سال تک چھوڑے رکھا تو اس کا ایسا کرنا اس کو قتل کرنے کے مترادف ہے۔
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن أبي خِراش حَدْرَدِ بن أبي حَدْرَدٍ الأسْلَمِي رضي الله عنه مرفوعاً: «من هَجَر أخَاه سَنَة فهو كَسَفْكِ دَمِهِ».
جس نے اپنے کسی بھائی سے کسی شرعی غرض کے علاوہ کسی اور وجہ سے قطع تعلقی کر لی اور یہ قطع تعلقی ایک سال تک چلتی رہی تو اس کے لیے سزا واجب ہو گئی جیسے اس کے خون بہانے سے سزا واجب ہو جاتی ہے یعنی تعزیزی سزا جو قاضی کی صواب دید پر ہو گی۔ ایسا اس لیے ہے تاکہ وہ اس سے باز آ جائے اور دوسروں کو اس سے تنبیہ ہو۔ تاہم اگر یہ قطع تعلقی کسی شرعی غرض سے ہو جیسے اہلِ بدعت اور فاسق لوگوں سے قطعِ تعلقی تو اس صورت میں مناسب یہ ہے کہ ہمیشہ جاری رہے جب تک کہ وہ توبہ نہ کرلیں اور حق کی طرف نہ لوٹ آئیں۔
موضوعات : فضائل و آداب · اخلاق ذمیمہ/ برے اخلاق · اختلاف رائے کے آداب