اسلام > Ur > حدیث > دعوت و احتساب > اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے کسی جانور کو باندھ کر کسى چیز سے مار مار کر قتل کرنے س…
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن جابر بن عبد الله قال: «نَهى رسول الله صلى الله عليه وسلم أنْ يُقتل شيء مِن الدَّواب صَبْرا».
اس حدیث میں جانوروں بلکہ کسی بھی ذی روح کو قید میں رکھ کر مارنے سے منع کیا گیا ہے۔ اس کے اندر غیر شرعی طریقے سے مار کر تلف کرنا بھی شامل ہے۔ مثال کے طور پر نشانہ بناکر تیر اندازی کرنا وغیرہ۔ کیونکہ اس میں جانور کو عذاب دینا، اس کی جان کو تلف کرنا، اس کی مالیت کو ضائع کرنا اور شرعی طور پر ذبح نہ کرنا جیسے مفاسد پائے جاتے ہيں۔ ان مفاسد کے ساتھ ساتھ چونکہ یہ ایک بے سود قتل ہے، اس لیے شریعت نے اس سے منع کیا ہے اور حدیث میں وارد نہی کا صیغہ حرمت کا تقاضا کرتا ہے۔ شریعت اسلامی کا اس طرح انسانوں کے ساتھ ساتھ جانوروں اور پرندوں کے ساتھ شفقت اور مہربانی کا برتاو روا رکھنا، اس کی عظمت اور اس کی تعلیمات کی ہمہ گیری کا بین ثبوت ہے۔
موضوعات : اسلام میں جانوروں کے حقوق