اسلام > Ur > حدیث > دعوت و احتساب > رسول اللہ ﷺ نے چہرے پر مارنے اور اس پر نشان لگانے سے منع فرمایا ہے۔
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن ابن عباس رضي الله عنهما أن النبي صلى الله عليه وسلم مر عليه حمار قد وُسِمَ في وجهه، فقال:«لعن الله الذي وسمه».
وفي رواية لمسلم أيضا: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الضرب في الوجه، وعن الوسم في الوجه»
اس حدیث میں اس بات کی سخت ممانعت اور اس شخص کے لیے سخت وعید ہے، جس نے کسی جانور کے چہرے پر نشان لگایا اور اسی طرح اس کے چہرے پر مارا۔ علماے کرام نے اسے کبیرہ گناہوں میں شمار کیا ہے۔
علماے کرام نے اس ممانعت کی علت یہ بیان کی ہے کہ چہرہ ایک عمدہ عضو ہے، جو تمام محاسن کا مرکز ہوتا ہے۔ چہرے کے اجزا بہت نفیس و نازک ہوتے ہیں اوربیش تر قوائے ادراک چہرے ہی میں ہوتے ہیں۔ چنانچہ چہرے پر مارنے کی وجہ سے یہ ناکارہ ہو سکتے ہیں یا انھیں نقصان پہنچ سکتا ہے۔ بسا اوقات چہرے پر مارنے سے چہرے میں بگاڑ پیدا ہوجاتا ہے اور اس میں پیدا شدہ عیب بہت برا ہوتا ہے۔ واضح طور پر نظر آتا ہے۔ اس کا چھپانا ممکن نہیں ہوتا۔ اور جب بندہ جانور کو چہرے میں مارتا ہے، تو عموما اس میں عیب پیدا ہو ہی جاتا ہے۔
موضوعات : اسلام میں جانوروں کے حقوق