امام اور مقتدی سے متعلق احکام پر احادیث

اسلام > Ur > حدیث > امام اور مقتدی سے متعلق احکام

«امام اور مقتدی سے متعلق احکام» پر 27 نبوی احادیث وضاحت کے ساتھ: عربی متن، ترجمہ، وضاحت اور سبق، درجہ استناد اور حوالوں کے ساتھ۔

27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا

امام اور مقتدی سے متعلق احکام پر احادیث کی فہرست

صحیح مردوں کے لیے تسبیح (سبحان اللہ کہہ کر امام کو نماز میں متنبہ کرنا) اور عورتوں کے لیےتالی بجانا ہے۔ صحیح ایسا نہ کیا کرو؛ جب تم میں سے کوئی اپنی منزل میں نماز پڑھ چکا ہو، پھر امام کو پائے کہ اس نے ابھی نماز نہیں پڑھی ہے، تو اس کے ساتھ بھی مل کر پڑھے۔ یہ ا صحیح رسول اللہ ﷺ گھوڑے پر سوار ہوئے اور اس سے گر پڑے، اس سے آپ کا دایاں پہلو چھل گیا۔ صحیح آگے بڑھو، اور میری اقتدا کرو، اور جو تمہارے بعد کے لوگ ہیں وہ تمہاری اقتدا کریں، کچھ لوگ برابر پیچھے ہٹتے رہتے ہیں یہاں تک کہ اللہ ان کو پیچھے ہی کر صحیح اے لوگو ! تم میں سے بعض (دوسروں کو نماز سے) متنفر کرنے والے ہیں۔ دیکھو جو شخص لوگوں کو نماز پڑھائے تو وہ ہلکی پڑھائے، کیوں کہ ان میں بیمار، کمزور اور صحیح فلاں نماز فلاں وقت پڑھا کرو ، فلاں نماز فلاں وقت پڑھا کرو اور جب نماز کا وقت ہو جائے تو تم میں سے کوئی ایک شخص اذان دے اور جسے سب سے زیادہ قرآن یاد ہو صحیح لوگوں کی امامت وہ کرے جو اللہ کی کتاب (قرآن) کا سب سے زیادہ علم رکھنے والاہو۔ صحیح میں نے اور ایک یتیم لڑکے نے جو ہمارے گھر میں موجود تھا ، نبی کریم ﷺ کے پیچھے نماز پڑھی اور میری والدہ ام سلیم ہمارے پیچھے تھیں۔ صحیح اللہ تمہاری (نیکی کی) حرص کو بڑھائے، دوبارہ ایسا نہ کرنا حَسَنْ ام ورقہ بنت عبد اللہ بن حارث انصاری رضی اللہ عنہا نے قرآن پاک کو حفظ کیا تھا اور آپ ﷺ نے انہیں حکم دیا تھا کہ وہ اپنے گھر والوں کی امامت کریں۔ صحیح نبی کریم ﷺ نے ابنِ اُمّ مکتوم رضی اللہ عنہ کو اپنا نائب مقرر کیا تھا، وہ لوگوں کی امامت کرتے تھے، حالانکہ وہ نابینا تھے۔ صحیح جب تم میں سے کوئی نماز پڑھنے آئے اور امام کسی حالت میں ہو تو وہ وہی کرے جو امام کر رہا ہو۔ صحیح رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی کو الگ بیٹھا ہوا دیکھا جس نے باجماعت نماز نہیں پڑھی تھی، آپ ﷺ نے فرمایا: اے فلاں ! تمہیں لوگوں کے ساتھ نماز پڑھنے سے کس چیز نے صحیح تم اپنے گھر والوں کے پاس لوٹ جاؤ، ان میں رہو اور انہیں (دین) سکھاؤ اور (نیکی کا) حکم دو۔ دیکھو یہ نماز فلاں وقت اور یہ نماز فلاں وقت پڑھنا۔ جب نماز کا صحیح اپنی صفوں کو سیدھا کر لو؛ ورنہ اللہ تمھارے مابین تفرقہ ڈال دے گا۔ صحیح میں گدھی پر سوار ہو کر آیا، ان دنوں میں بلوغت کے قریب تھا۔ رسول اللہ ﷺ منیٰ میں نماز پڑھا رہے تھے اور آپ ﷺ کے سامنے کوئی دیوار نہیں تھی۔ صحیح اٹھو، تاکہ میں تمہیں نماز پڑھا دوں صحیح میں نے نبی ﷺ کی نماز سے زیادہ ہلکی اور زیادہ کامل نماز کبھی کسی امام کے پیچھے نہیں پڑھی۔ صحیح تم نے ’سبّح اسم ربك الأعلى‘، ’والشمس وضحاها‘ اور ’والليل إذا يغشى‘ ( جیسی سورتیں ) پڑھ کر نماز کیوں نہیں پڑھائی، کیوں کہ تمہارے پیچھے بوڑھے، کمزور اور صحیح جب کوئی تم میں سے لوگوں کو نماز پڑھائے، تو ہلکی نماز پڑھے؛ اس لیے کہ ان میں کوئی ناتواں، کوئی بیمار اور کوئی ضروت مند ہوتا ہے۔ البتہ جب تم میں سے کوئی صحیح امام اس لیے بنایاجاتا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے۔ اس لیے اس کی مخالفت نہ کرو۔ جب وہ تکبیر کہے تو تکبیر کہو، جب رکوع کرے تو رکوع کرو، جب ”سَمِعَ اللَّهُ صحيح جب تم نماز پڑھو، تو اپنی صفیں درست کر لو۔ پھر تم میں سے ایک شخص تمھارا امام بن کر نماز پڑھائے۔ چنانچہ جب وہ تکبیر کہے، تو تم تکبیر کہو صحیح رسول کریم ﷺ کو خبر ملی کہ عمرو بن عوف کی اولاد کےدرمیان کچھ جھگڑا ہے۔ چنانچہ رسول ﷺ چند لوگوںکے ساتھ ان کے درمیان مصالحت کرانے کی غرض سے تشریف لے گئے۔
بسم الله الرحمن الرحيم منگل 15 جمادی الاول
الثلاثاء 15 جمادى الأولى
بدر پورا چاند دن 16.5 / 29.5
روشنی 96%
نیا چاند 13 دنوں میں
سبحان الله وبحمده اللہ کی تسبیح اور حمد

إِنَّ ٱللَّهَ وَمَلَٰٓئِكَتَهُۥ يُصَلُّونَ عَلَى ٱلنَّبِىِّ ۚ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ صَلُّوا۟ عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا۟ تَسْلِيمًا

خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں۔ مومنو تم بھی ان پر دُرود اور سلام بھیجا کرو

Al-Ahzab 33:56

نبی پر درود