امیر المؤ منین! اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ سے فرمایا: {خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ …

اسلام > Ur > حدیث > عقیدہ > امیر المؤ منین! اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ سے فرمایا: {خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ …

حدیث کے راوی: اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔

صحیح

27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا

📖 2 منٹ مطالعہ

حدیث کا متن: امیر المؤ منین! اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ سے فرمایا: {خ…

عن عبد الله بن عباس رضي الله عنهما قال: قَدِم عُيَينَة بن حِصنٍ، فَنزَل على ابنِ أَخِيه الحُرِّ بن قَيسٍ، وكان من النَّفَر الذين يُدنِيهِم عمر رضي الله عنه ، وكان القُرَّاء أصحاب مَجلِس عُمر رضي الله عنه ومُشاوَرَتِه كُهُولا كانوا أو شُبَّانًا، فقال عيينة لابن أَخِيه: يَا ابن أخي، لك وَجْه عند هذا الأمير فَاسْتَأذِن لِي عليه، فَاسْتَأذَن فَأَذِن لَه عُمر، فَلَمَّا دَخَل قال: هي يا ابن الخطَّاب، فَوالله مَا تُعطِينَا الجَزْلَ ولا تَحكُمُ فِينَا بِالعَدلِ، فغضب عمر رضي الله عنه حَتَّى هَمَّ أَنْ يُوقِعَ بِه، فقال له الحُرُّ: يا أمير المؤمنين، إنَّ الله تعالى قال لِنَبِيِّه صلى الله عليه وسلم : {خذ العفو وأمر بالعرف وأعرض عن الجاهلين}، وإِنَّ هذا مِن الجَاهِلِين، والله مَا جَاوَزَها عُمر حِين تَلاَهَا، وكان وَقَّافًا عند كِتَاب الله تعالى .

حدیث کی وضاحت: امیر المؤ منین! اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ سے فرمایا: {خ…

جلیل القدر صحابی عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو پیش آنے والے ایک واقعہ کے بارے میں ہمیں بتا رہے ہیں کہ ان کے پاس عیینہ بن حصن رضی اللہ عنہ آئے، جو اپنی قوم کے سرکردہ لوگوں میں سے تھے۔ انھوں نے اپنی بے سروپا گفتگو کا آغاز درشتگی اور مذمت بھرے انداز میں کیا اور پھر ڈانٹتے ہوئے کہنے لگے: "تم ہمیں بہت زیادہ نہیں دیتے اور نہ ہمارے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کرتے ہو۔ اس پر عمر رضی اللہ عنہ شدید غصے میں آ گئے اور قریب تھا کہ وہ ان کی پٹائی كر دیتے، لیکن بعض علما جن میں ایک عیینہ رضی اللہ عنہ کے بھتیجے حر بن قیس رضی اللہ عنہ بھی تھے، آگے بڑھے اور خلیفۂ راشد رضی اللہ عنہ سے مخاطب ہو کر کہنے لگے: اے امیر المؤمنین! اللہ تعالی نے اپنے نبی ﷺ سے فرمایا: {خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَ} (الأعراف: 199) ”آپ درگزر کو اختیار کریں، نیک کام کی تعلیم دیں اور جاہلوں سے ایک کناره ہو جائیں“۔

اور یہ جاہل لوگوں میں سے ہے۔ اس آیت پر عمر رضی اللہ عنہ ٹھہر گئے اور انھوں نے اپنا غصہ دبا لیا اور اس سے تجاوز نہ کیا؛ کیوں کہ آپ رضی اللہ عنہ اللہ کی کتاب (کے احکامات) پر رک جانے والے تھے۔ چنانچہ آپ کے سامنے تلاوت کی جانے والی اس آیت کی وجہ سے آپ رضی اللہ عنہ نے اس شخص کو نہ مارا۔

اللہ کی کتاب کے معاملے میں صحابۂ کرام کا طرز عمل یہی تھا کہ وہ اس سے تجاوز نہ کرتے۔ جب ان سے یہ کہہ دیا جاتا کہ یہ اللہ کا فرمان ہے، تو وہ رک جاتے؛ چاہے کچھ بھی ہو۔

موضوعات : صحابہ رضی اللہ عہنہم کی فضیلت · امام کے واجبات · اسلام میں شورائی نظام

بسم الله الرحمن الرحيم منگل 15 جمادی الاول
الثلاثاء 15 جمادى الأولى
بدر پورا چاند دن 16.5 / 29.5
روشنی 97%
نیا چاند 13 دنوں میں
لا حول ولا قوة إلا بالله اللہ کے بغیر کوئی طاقت اور قوت نہیں

إِنَّ ٱللَّهَ وَمَلَٰٓئِكَتَهُۥ يُصَلُّونَ عَلَى ٱلنَّبِىِّ ۚ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ صَلُّوا۟ عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا۟ تَسْلِيمًا

خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں۔ مومنو تم بھی ان پر دُرود اور سلام بھیجا کرو

Al-Ahzab 33:56

نبی پر درود