اسلام > Ur > حدیث > دعوت و احتساب > اے اللہ! جو شخص بهى میری امت کے کسی معاملے کا ذمہ دار بنے، پھر وہ ان کو مشقت ميں ڈالے تو ت…
صحیحفہرست مضامین :
27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن عائشة رضي الله عنها قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ -صَلّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم- يقُولُ في بيتي هَذَا: «اللهم من وَلِيَ من أمر أمتي شيئًا فَشَقَّ عليهم، فَاشْقُقْ عليه، ومن وَلِيَ من أمر أمتي شيئًا فَرَفَقَ بهم، فَارْفُقْ به».
اس حديث ميں حکمرانی و فرمانروائی اور اقتدار و ذمہ داری سنبھالنے کے معاملے کی اہميت و سنگینی کا بيان ہے۔ نبی کريم صلی اللہ عليہ وسلم نے دعا فرمائی ہے کہ جو شخص لوگوں کے کسی معاملے کا ذمہ دار بنے، پھر وہ ان پر سختی کرے تو اللہ تعالی بھی اس کے ساتھ ويسا ہی معاملہ کرے، اور جو لوگوں کے ساتھ عدل وانصاف ،نرمی اور رحم دلی کا معاملہ کرے، اللہ تعالی اسے اس پر (اچھا) بدلہ دے، اور بدلہ عمل ہی کے جنس سے ملتا ہے۔
موضوعات : امام کے واجبات