رسول اللہ ﷺ ایک دن مکہ اور مدینے کے درمیان ایک چشمے کے پاس، جسے خُم کہہ کر پکارا جاتا ہے، …

اسلام > Ur > حدیث > عقیدہ > رسول اللہ ﷺ ایک دن مکہ اور مدینے کے درمیان ایک چشمے کے پاس، جسے خُم کہہ کر پکارا جاتا ہے، …

حدیث کے راوی: اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

صحیح

27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا

📖 4 منٹ مطالعہ

حدیث کا متن: رسول اللہ ﷺ ایک دن مکہ اور مدینے کے درمیان ایک چشمے کے…

عن يزيد بن حيان قال: انطلقت أنا وحُصين بن سَبْرَة وعمرو بن مسلم إلى زيد بن أرقم رضي الله عنه فلما جلسنا إليه قال له حصين: لقد لقيتَ يا زيد خيرًا كثيرًا، رأيتَ رسول الله صلى الله عليه وسلم وسمعتَ حديثه، وغزوتَ معه، وصليتَ خلفه: لقد لقيت يا زيد خيرًا كثيرًا، حدثنا يا زيد ما سمعت من رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: يا ابن أخي، والله لقد كَبِرَتْ سني، وقَدُمَ عهدي، ونسيتُ بعض الذي كنت أَعِي من رسول الله صلى الله عليه وسلم فما حدثتكم فاقبلوا، وما لا فلا تُكَلِّفُونِيهِ. ثم قال: قام رسول الله صلى الله عليه وسلم يومًا فينا خطيبًا بماء يُدعى خُمًّا بين مكة والمدينة، فحمد الله، وأثنى عليه، ووعظ وذكَّر، ثم قال: «أما بعد، ألا أيها الناس، فإنما أنا بشر يُوشِكُ أن يأتي رسول ربي فأُجِيبَ، وأنا تاركٌ فيكم ثَقَلَيْنِ: أولهما كتاب الله، فيه الهدى والنور، فخذوا بكتاب الله، واستمسكوا به»، فحَثَّ على كتاب الله، ورغَّبَ فيه، ثم قال: «وأهل بيتي أُذَكِّرُكُمُ اللهَ في أهل بيتي، أُذَكِّرُكُمُ اللهَ في أهل بيتي» فقال له حصين: ومن أهل بيته يا زيد، أليس نساؤه من أهل بيته؟ قال: نساؤه من أهل بيته، ولكن أهل بيته من حُرِمَ الصدقةَ بعده، قال: ومن هم؟ قال: هم آل علي، وآل عقيل، وآل جعفر، وآل عباس. قال: كل هؤلاء حُرِمَ الصدقةَ؟ قال: نعم.
وفي رواية: «ألا وإني تاركٌ فيكم ثَقَلَيْنِ: أحدهما كتاب الله وهو حبل الله، من اتبعه كان على الهدى، ومن تركه كان على ضلالة».

حدیث کی وضاحت: رسول اللہ ﷺ ایک دن مکہ اور مدینے کے درمیان ایک چشمے کے…

یزید بن حیان کہتے ہیں: میں، حصین بن سبرہ اور عمرو بن مسلم، زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کی طرف چلے، جب ہم ان کے پاس جاکر بیٹھ گئے تو حصین نے زید رضی اللہ عنہ سے کہا: اے زید! آپ کو بڑی سعادتیں حاصل ہوئی ہیں؛ آپ نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ہے۔ آپ ﷺ سے حدیث سنی ہے۔ آپ ﷺ کے ساتھ مل کر اللہ کی راہ میں جہاد کیا ہے اور آپ ﷺ کے پیچھے نماز پڑھی ہے۔ یقینا آپ کو بہت بڑی بھلائی دی گئی۔ اے زید! آپ نے رسول اللہ ﷺ سے جو احادیث زبانى سنی ہیں، وہ ہمیں بیان کریں۔ زید نے فرمایا: اے میرے بھتیجے! اللہ کی قسم! میں بوڑھا ہو چکا ہوں اور اللہ کے رسول کی صحبت میں رہے ایک زمانہ گزر گیا ہے۔ (جس کی وجہ سے) میں بعض وہ باتیں جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سن کر یاد کر رکھی تھیں، بھول گیا ہوں۔ اس لیے میں تم سے جو کچھ بیان کروں، اسے قبول کرلو اور جو تم سے بیان نہ کر سکوں، مجھے اس کا مکلف نہ ٹھہراؤ۔ پھر حدیث بیان کرتے ہوئے ان سے فرمایا:رسول اللہ ﷺ ایک دن مکہ اور مدینہ کے درمیان، ایک وادی کے پاس جس میں پانی تھا اور اس کا نام خُم تھا، ہمارے لیے خطبہ ارشاد فرمایا۔ آپ ﷺ نے اللہ کی حمد و ثنا بیان فرمائی اور خدمت پر توجہ نیز حق عبودیت کی ادائیگی وغیرہ باتوں کا ذکر فرمایا، جن سے لوگ اپنے اہل و عیال میں مشغولیت کی وجہ سےغافل ہو گئے تھے۔ پھر آپ نے ارشاد فرمایا: بعد حمد و صلوٰۃ، آگاہ رہو اے لوگو! میں ایک آدمی ہوں، قریب ہے کہ میرے رب کا قاصد میرے پاس آئے۔ یعنی ملک الموت میری روح قبض کرنے کے لیے آئے اور میں اسے قبول کر لوں۔ میں تم میں دو بھاری چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں۔ ان میں سے پہلی قرآن ہے، جس میں ہدایت اور نور ہے۔ تم اس کو پکڑے رکھو اور اس کے ساتھ مضبوطی سے قائم رہو۔

آپ ﷺ نے قرآن کو پکڑے رہنے اور اس کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھنے کی خوب رغبت دلائی۔ پھر فرمایا:اور میرے اہلِ بیت، میں تم لوگوں کو ان کے بارے میں اللہ کی فرماں برداری اور ان کے حق کی ادائیگی کا حکم دیتا ہوں۔ آپ ﷺ نے یہ بات دو بار فرمائي۔ حُصین نے زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے عرض کیا: اے زید! آپ ﷺ کے اہل بیت کون ہیں؟ کیا آپ ﷺ کی بیویاں اہلِ بیت میں سے نہیں ہیں؟ زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ ﷺ کی بیویاں جنھوں نے آپ کے ساتھ سکونت اختیار کی اور جن کی کفالت کی ذمے داری آپ نے اٹھائی، آپ کے اہل بیت میں سے ہیں، ہمیں ان کے احترام و اکرام کا حکم دیا گیا ہے۔ لیکن جب اہل بیت مطلقا بولا جائے، تو وہ سارے لوگ شامل ہوتے ہیں، جن پر آپ ﷺ کے بعد وجوبی صدقہ حرام ہے۔ حُصین نے پوچھا کہ وہ کون ہیں؟ آپ رضی اللہ عنہ نے بتایا: علی کا خاندان، عقیل کا خاندان، جعفر کا خاندان، یہ سب ابو طالب کی اولاد ہیں اور عباس کا خاندان۔ یہ سب لوگ زکوٰۃ، نذر اور کفارہ وغیرہ وجوبی صدقہ لینے سے منع کیے گیے ہیں۔

اور ایک روایت میں ہے:آ گاہ رہو! میں تم میں دو بھاری چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں۔ ان میں سے ایک اللہ کی کتاب ہے۔ وہ اس کا عہد اور اس کی رضا و رحمت تک پہنچنے کا ذریعہ اور اس کا وہ نور ہے جس سے ہدایت حاصل کی جائے۔ چنانچہ جو اس کے اوامر کی بجا آوری اور نواہی سے رک کر اس کی اتباع کرے گا، وہ اس ہدایت پر رہے گا، جو گمراہی کی ضد ہے اور جو اس کے حکم و نہی سے اعراض کرے گا، وہ گمراہی پر رہے گا۔

موضوعات : اہل بیت کے حقوق

بسم الله الرحمن الرحيم بدھ 16 جمادی الاول
الأربعاء 16 جمادى الأولى
أحدب متناقص گھٹتا ہوا گول چاند دن 16.7 / 29.5
روشنی 96%
نیا چاند 13 دنوں میں
أستغفر الله میں اللہ سے مغفرت مانگتا ہوں

إِنَّ ٱللَّهَ وَمَلَٰٓئِكَتَهُۥ يُصَلُّونَ عَلَى ٱلنَّبِىِّ ۚ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ صَلُّوا۟ عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا۟ تَسْلِيمًا

خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں۔ مومنو تم بھی ان پر دُرود اور سلام بھیجا کرو

Al-Ahzab 33:56

نبی پر درود